Credit: BBC Urdu (Online)
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومتِ پاکستان کے خلاف بغاوت پھیلانے اور فوجی صدر دفاتر پر حملے کی سازش کے الزام میں زیرِ حراست پاکستانی فوجی افسر بریگیڈیئر علی خان پر کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران ایف سولہ لڑاکا طیارے کے ذریعے جی ایچ کیو پر حملے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بریگیڈیئر علی خان کے خلاف اس الزام کی بنیاد استغاثہ کے گواہ میجر سہیل اکبر کا بیان ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بریگیڈیئر علی اور حزب التحریر کے بعض ارکان نے انہیں بتایا تھا کہ کور کمانڈرز یا فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس کے دوران راولپنڈی میں واقعہ جنرل ہیڈ کوارٹرز پر ایف سولہ طیارے سے حملہ کیا جائے گا۔
اسی بارے میں
متعلقہ عنوانات
کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے بریگیڈیئر علی خان کے خلاف استغاثہ کے گواہ میجر سہیل اکبر نے اپنے تحریری بیان میں فوجی عدالت کو بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے راولپنڈی کے قریب ایک فوجی ہوائی اڈے پر تعینات ایف سولہ طیارے کے ایک پائلٹ کو ہمنوا بنا لیا گیا تھا۔
میجر اکبر کے مطابق اس ایف سولہ طیارے کے ذریعے ہی ملزمان نے پاکستان میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کی تنصیبات پر بھی حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
May we look forward to a brief summary in English?
Please see here.