The Muslim Times’ Editor for Pakistan
Credit: BBC urdu.com
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 11 فروری 2012 , 03:15 GMT 08:15 PST
پاکستانی فوج کے زیرِ حراست بریگیڈیئر علی خان پر ایک شدت پسند تنظیم کے ساتھ روابط کے الزامات میں باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور عسکری ذرائع کے مطابق ان کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی بہت جلد شروع کر دی جائے گی۔
بریگیڈیئر علی خان کو گزشتہ برس چھ مئی کو فوج کے صدر دفتر جی ایچ کیو راولپنڈی سے حراست میں لیا گیا تھا جہاں وہ خدمات انجام دے رہے تھے۔
اسی بارے میں
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر علی خان اور چار دیگر حاضر سروس فوجی افسروں کو کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزام میں باقاعدہ چارج شیٹ اسی ہفتے جاری کی گئی ہے جس کے ساتھ ان پر لگائے جانے والے الزامات کے حق میں شواہد (سمری آف ایویڈنس) بھی منسلک ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم پاکستانی فوج کی قانونی برانچ کے سابق سربراہ اور کورٹ مارشل مقدمات کے نامی گرامی وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ بریگیڈیئر علی کے لواحقین نے فوجی عدالت میں ان کا مقدمہ لڑنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔

Military must have a clean up strategy regarding any link with terrorism. This col should have fair trials, if proven guilty, must be punished to its max.
In the Name of Allah the Most Gracious Ever Merciful
Because of terrorist factions of Pakistan, there has already been much bloodshed and chaos in the Country also there is setback for the fame of the country as notorious terrorist country. There must be fair trial, if found guilty of treason must not be pardoned, but if not guilty of treason charges must be cleared honorably.
Zarif Ahmad