Let us Build Pakistan: by Sarah Khan
اسرائیل، غزہ اور مسلمانوں کی منافقت
گزشتہ کچھ روز سے پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے غیرت مند سیاستدانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، فوجی جرنیلوں، جہادی فرقہ وارانہ گروہوں اور اسلام کے رکھوالوں کو ایک نیا موضوع مل گیا ہے یعنی غزہ، اسرئیل اور فلسطین
انیس سو ستاسی سے لے کر دو ہزار گیارہ تک کل آٹھ ہزار فلسطینی مارے گۓ اور پندرہ سو اسرائیلی . کل ملا کر پچانوے سو تعداد بنتی ہے
جبکہ پاکستان میں انیس سو ستاسی سی اب تک کل 22 ہزار کے قریب شیعہ ،دو سو کے قریب احمدی، دو سو کے قریب مسیحی ، سینکڑوں ہندو اور سکھ ، چوالیس ہزار عام شہری ، ہزاروں پشتون اور بلوچ،، تقریباً چار ہزار پولیس اور فوجی ، مارے جا چکے ہیں کل تعداد تقریبآ (77000) ستر ہزار بنتی ہے یعنی اسرائیل فلسطین جنگ سے تقریبآ آٹھ گنا زیادہ
مگر ان غیرت مندوں کے منہ سے کبھی کوئی لفظ ہمدردی کا نہیں نکلا. نہ ہی ان کو کبھی کوئی انسانیت یا انسانی حقوق یا امت کی یاد آئی
بلکہ اکثریت بیٹھی ان قاتلوں کی حمایت میں تاویلیں دے رہی ہوتی ہے
اگر کسی کے دل میں واقعی مسلمانوں یا انسانوں کا درد ہی تو اسکو پاکستان میں تکفیری دیوبندیوں (طالبان اور سپاہ صحابہ) کے ہاتھوں شہید ہونے والے سنی بریلوی، شیعہ، احمدی، مسیحی وغیرہ کیوں نظر نہیں آتے
حالانکہ برما میں مرنے والے ایک سو افراد اور غزہ میں مرنے والے پچاس ساٹھ افراد کے مرنے پر شور مچ جاتا ہے
کیا پاکستان میں دیوبندی سلفی جہادیوں کے ہاتھوں مرنے والے لوگ انسان نہیں
Categories: Asia, Attack military, Awareness, Behaviour, Bigotry, Civil Rights, Double Standard, Hypocrisy
“… Allah changes not the condition of a people until they change that which is in their own selves. …” [13:12]
When a people do not heed admonition to avoid the paths which lead to divine displeasure, then wrathful events like that on 28th May 2010 at Lahore occur.