Recognition of Dr. Salam’s services to Pakistan

ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کا اعتراف

زکریا ورک ۔ ٹورنٹو

وزیر اعظم پاکستان جناب نواز شریف کی طرف سے جاری کردے ایک سرکاری اعلامیے کے 

مطابق وزیر اعظم نے حکم دیا ہے کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں واقع نیشنل سینٹر فار فزکس کا نیانام پروفیسر عبد السلام سینٹر فار

فزکس میں تبدیل کر دیا جائے۔ 

وزیر اعظم نے یہ فیصلہ پروفیسرمحمد عبد السلام (1926-1996)کی پا کستان اور سائنس میں کی گئی خدمات کی وجہ سے کیا ہے جو بیسویں صدی کی نظریاتی فزکس میں قدآور شخصیت تھے۔ فزکس میں ان کے اساسی کارناموں کی وجہ سے انہوں نے دوامریکن سائنسدانوں کے ہمراہ 1979 میں نوبیل انعام وصول کیا تھا۔ 

وزیراعظم نے فیڈرل منسٹری آف ایجوکیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ نام تبد یل کرنے کے ضمن میں رپورٹ مرتب کر کے پیش کریں تا کہ وزیراعظم اس کی منظوری دے سکیں۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے فز کس میں پی ایچ ڈی کرنے والے پانچ طلباء کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے واسطے سے بین الاقوامی یو نیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کیلئے منظوری دی ہے ۔ اس فیلوشپ کانام پروفیسر عبد السلام فیلوشپ ہوگا۔ hqdefault

ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری سن 1926 کو پاکستانی صوبہ پنجاب ميں جھنگ کے ايک قريبی گاؤں ميں پيدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق درميانے درجے کی آمدنی والے گھرانے سے تھا اور انہوں نے اردو ميڈيم اسکول ميں ابتدائی تعليم حاصل کی۔ چودہ برس کی ہی عمر ميں انہوں نے ميٹرک کے امتحانات ميں رياضی ميں سب سے زيادہ نمبر حاصل کيے اور سترہ برس ميں اپنا پہلا ريسرچ پيپر چھاپ ڈالا۔ ليکن اس وقت بھی کسی کو يہ علم نہ تھا کہ آگے جا کر يہی عبدالسلام فزکس ميں ’يونيفيکيشن تھيوری‘ کے ليے کافی خدمات ادا کرنے پر فزکس کے نوبل انعام کا حقدار قرار پائےگا۔

ڈاکٹر محمد عبد السلام پہلے پاکستانی اور مسلمان تھے جس نے سائنس میں سب سے پہلا نوبیل انعام حاصل کیا تھا۔ڈاکٹر عبدالسلام حکومتِ پاکستان سائنس کے امور کے مشیر کے طور پر 1960 سے 1974 تک خدمات انجام دیں اور اِس عہدے پر رہتے ہوئے اُنھوں نے ملک میں سائنسی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

پا کستان میں سائنس کے فروغ اور سائنسی اداروں کے قیام کے سلسلے میں آپ کی مساعی جمیلہ کے باعث آپ کو پاکستان کا بابائے سائنس قرار دیا جا تا ہے۔ آپ پا کستان اٹامک انرجی کمیشن کے ممبر رہے۔

سپارکو کی سپیس ایجنسی کے بانی ، جب ۱۹۶۱ میں کراچی سے پہلا پا کستانی راکٹ رہبر فضا میں بھیجا گیا اس وقت آپ ڈاکٹر عثمانی کے ہمراہ لانچ سائٹ پر موجود تھے۔ کراچی نیوکلئیر پلانٹ کی خریداری میں رہ نمائی کی۔ نیشنل سائنس کونسل کے ممبر جس نے ۱۹۷۰ رپورٹ شائع کی تھی۔ پنس ٹیک کے مرکز کیلئے مقام کا انتخاب آپ نے کیا تھا۔ ۱۹۷۴ میں لاہور میں منعقد ہونیوالی اسلامی سربراہوں کی کانفرنس میں اسلامک سائنس فاؤنڈیشن کا ڈرافٹ پیش کیا۔ پانچ سو پا کستانی سائنسدانوں کی اعلیٰ تعلیم اور وظائف کیلئے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں انتظام کیا۔ انٹرنیشنل نتھیاگلی سائنس سیمینار کا آغاز کیا۔ 

آپ کی خدمات کے اعتراف میں 1998ء میں حکومت پا کستان نے آپ کے نام کا دوروپے کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔نیو مسلم ٹاؤن ،لاہور میں عبد السلام سکول آف میتھمیٹکل سائنسز2003 سے کام کررہا ہے جہاں ریاضی میں ڈاکٹر یٹ کرنے والے ملکی و غیر ملکی طلباء کا انتظام ہے۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ڈاکٹر عبد السلام چئیر فزکس کے شعبہ میں قائم ہے جس کے حامل اس وقت ڈاکٹر سلام کے شاگرد ڈاکٹر غلام مرتضی ہیں۔ریاضی میں ذہین طلباء کو ہرسال عبدالسلام میڈل دیا جاتا ہے۔ 

اخباری اطلاعات کے مطابق کیپٹل ایڈ منسٹریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف سرکاری سکولوں میں مشاہیر پا کستان کی تصاویر چسپاں کر نے کا سلسلہ شروع کیا گیاہے۔ اسلام آباد کے 6 اور دیہی علاقوں کے 16، اسکولوں میں سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور سائنسدانوں کے تعارفی پوسٹر چسپاں کئے گئے ہیں۔ F83میں واقع آذان شہیدپبلک سکول میں نوبیل انعام یافتہ سائنسداں ڈاکٹر عبد السلام کا تصویری پوسٹر چسپاں کیا گیا ہے۔ اس کے تعارف میں پہلا پاکستانی مسلمان کے الفاظ لکھے گئے ہیں۔لیکن دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ ان کی قبر کے کتبے پر سے “پہلا پاکستانی مسلمان” کے لکھے گئے جملے سے لفظ مسلمان حذف کر دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کی جانب سے احمدی مسلمانوں کو غير مسلمان قرار دينے کے حوالے سے ايک متنازعہ بل کی منظوری کے بعد ڈاکٹر عبدالسلام نے سن 1974 ميں پاکستان چھوڑ ديا تھا۔ انہيں سن 1979 ميں فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گيا۔ وہ کسی بھی ميدان ميں نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہيں۔

نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر عبد السلام سے منسوب کرنے کا فیصلہ اگرچہ دیر سے ہؤا ہے مگر نہایت مناسب ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اس عظیم سائنسداں کی خدمات کا اعتراف کریں جنہوں نے پا کستان کا نام دنیا میں بلند کیا۔ 

Leave a Reply