Urdu: Absolutely hair raising Fatwa against Pakistani Journalists, Reporters and Media by Taliban

ہم پیشکش :: صحافیوں، رپورٹرز اور میڈیا والوں کے بارے میں تحریک طالبان پاکستان کے علمائے کرام کا تاریخی فتوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تحریک طالبان پاکستان

(مرکزی امیرحکیم اللہ محسود حفظہ اللہ)

شوریٰ علماءمجاہدین، تحریک طالبان پاکستان

صحافیوں، رپورٹرز اور میڈیا والوں کے بارے میں
تحریک طالبان پاکستان کے علمائے کرام کا تاریخی فتوی

(عیدِ قرباں کی مناسبت سے جہادِ پاکستان کی خصوصی نشریات)

خاص پیشکش :: جہادِ پاکستان
کمانڈر احسان اللہ احسان حفظہ اللہ کا تحریک طالبان پاکستان کے علما و مفتیانِ گرامی سے پوچھا گیا وہ سوال جو اس فتویٰ کی وجہ بنا سوال:۔ کیا فرماتے ہیں علمائےدین اور مفتیانِ شرع متین ان ‘‘صحافیوں رپورٹر اور میڈیا والوں’’کے بارے میں جو:
  • · موجودہ جنگ میں مغرب اور سیکولر ازم کا ساتھ دیتے ہیں
  • · مجا ہدین کو ‘‘دہشتگرد ’’اور ا‘‘من دشمن ’’جیسے ناموں سے یاد کرتے ہیں
  • · صلیبی اتحاد میں شامل مرتد افواج کو شہید اور طالبان کو ہلاک کہتے ہیں
  • · جمہوریت کی دفاع کو اپنی پالیسی کا حصہ سمجھتے ہیں
  • · مسلمانو ں میں فحاشی اور بے حیائی پھیلاتے ہیں
  • · اسلامی احکا مات کے بارے میں طرح طرح کے پراپیگنڈے کرتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو آزاد اور غیر جانبدار کہتے ہیں
کیا ازروۓشریعت ان کے لیے یہ آزادی جا ئز ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کر ثواب حاصل کریں۔
جواب:۔
بسم اللہ الرحمنٰ الرحیم
‘‘الحمدللہ ولصلوۃ والسلام رسول اللہ ﷺ وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن والاہ۔ امابعد’’!
صحافیوں کے حالات:
یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میڈیا پر پروپیگنڈے کرتے ہیں،جیسے ان کو ‘‘دہشت گرد ،انتہا پسند،شدت پسند ،امن کے دشمن’’ اور دوسرے نامو ں سے یاد کرتے ہیں ۔
لال مسجد واقعہ رونما ہونے سے پہلے انہی لوگوں نے میڈیا پر شو ر مچایا تھا کہ ادھر ‘‘غیر ملکی دہشت گرد’’ ہیں ، ان کے پاس اسلحہ ہے بچوں اور لڑکیو ں کو انھوں نے یرغمال بنایا تھا۔
قبائلی علاقوں میں موجود‘‘مجاہدین’’ کو غیر ملکی دہشت گرد وں کے نام سے پکارتے ہیں
سوات میں طالبان کے خلاف انہو ں نے جعلی ویڈیو نشر کی، جس میں ان کا جرم شرعی سزا‘‘حد ’’یا ‘‘تعزیر’’دینا قرار دیا گیا تھا۔ اور اس واقعے کے بارے میں میڈیا میں شدیدمذمت کی گئی ، لیکن جب اْس کی اصلیت واضح ہوئی تو اسے اتنی اہمیت نہیں دی ، کیونکہ اس سے طالبان کی صفائی سامنے آتی ، جس کی میڈیا والو ں کو اجازت نہیں۔
گورنر سلمان تاثیر نے جب پیغمبرﷺ کی شان میں گستاخی کی اور ممتاز قادری نے اس کو مارا تو میڈیا والوں نے اس ‘‘گستاخ کو شہید ’’ او‘‘ ممتاز قادری کو ایک ظالم اور قاتل’’ کی شکل میں پیش کیا۔
انہی لوگوں نے شور و غوغا کیا کہ طالبان نے سوات کا امن خراب کیا ہے اور شرعی احکام کی نفاذ، عورتوں کیلئے پردے کو لازمی قرار دینے کو انہوں نے بد امنی قرار دیا ۔ اور جب حکومت نے صحافیو ں اور میڈیا والوں کے ذریعے آپریشن کے لئے راہ ہموار کی اور ‘‘ظالمانہ آپریشن’’ کیا تو انہی میڈیا والوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ سوات میں امن بحال ہوچکا ہے ۔جب کہ امن بحال کرنے کی علامت ان میلوں کا انعقاد تھا جس میں مردوں اور عورتوں کا مخلوط رقص اور ناچ گانا انگریز ممالک سے آنے والے کافر سیاحوں کے لئے یہاں فحاشی اور عریانی کا موقع فراہم کیا گیا ، سینما شوز لگائے گئے۔

Categories: Asia, Pakistan

1 reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.