سلطان سلیمان کا دل
نک تھورپ
بی بی سی نیوز، زیگیٹوار

ہنگری کے محققین کی ایک ٹیم رواں ماہ ترکی کے عثمانیہ دور کے سب سے مشہور سلطان سلیمان کے دل کی تلاش کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کرے گی۔ لیکن تقریباً ساڑھے چار سو سال پرانی اس تاریخی گتھی کو سلجھانا اتنا اہم کیوں ہے؟
فرانس کے مذہبی رہنما کارڈینل رچیلیو نے چار سو سینتالیس سال پہلے ہنگیریئن قلعے کے محاصرے کے بعد ہونے والی لڑائی کو ’تہذیب کے تحفظ‘ کی لڑائی قرار دیا تھا۔
مسلمان ترکوں نے ستمبر 1566 میں آخر کار اس زیگیٹوار کے علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا لیکن انہیں بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا جس میں لیڈر سلطان سلیمان کی موت بھی شامل تھی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ہنگری کے علاقے زیگیٹوار میں سلطان سلیمان کا دل دفن ہے۔
محقق عظیم سلطان کے دل کی تلاش کے لیے زمین کی کھدائی اور مختلف ممالک میں تاریخی آرکائیوز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سلطان سلیمان کون تھے؟
-
سلطان سلیمان1494 میں پیدا ہوئے اور ان کی وفات 1566 میں ہوئی۔
-
وہ ایک ایسے دور میں سلطنت عثمانیہ کے حکمران رہے جب سلطنت بہت امیر تھی، ثقافتی طور پر اس کا بہت اثر و رسوخ تھا اور فوج طاقتورتھی۔
-
ان کی موت کے بعد یہ سلطنت شمالی افریقہ، بلکان اور آج کے ملک ہنگری تک پھیل گئی۔
یونیورسٹی آف پیكس میں جغرافیہ کے پروفیسر نوبرٹ پیپ کا کہنا ہے ’جب ہنگری کے لوگ زیگیٹوار میں اس قلعے کی زمین پر چلتے ہیں تو وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ وہ اس قلعے سے گزر رہے ہیں۔ لیکن یقینی طور پر یہ درست نہیں ہے۔‘