With Appology to all Poets!

Source: Munir Munawwar of Austria. (sorry it is only for Urdu Readers)

shair marhoom 670

السٹریشن — جمیل خان –.

(شاعروں سے معذرت کے ساتھ. لیکن یہ معذرت جینوئن شاعروں کے لیے نہیں، کہ یہاں اُن کا ذکر خیر نہیں ہے)

ہم کراچی میں دیکھتے ہیں کہ جس کے پاس  کوئی کام نہ ہو تو وہ بی.کام  کرنے میں لگ جاتا ہے اور جس سے یہ کام بھی نہ ہوسکے تو وہ شاعری کرنے لگتا ہے، ہمارے دوست نون کا کہنا ہے کہ یہ ‘کرنا’ اُس ‘کرنے’ سے کافی حد تک مماثلت رکھتا ہے، جس سے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔

کراچی میں شاعروں کی اس قدر بہتات ہے کہ راہ چلتے انجانے میں کسی پتھر سے ٹھوکر لگ جائے تو اُس پتھر کے نیچے سے اکثر ایک شاعر برآمد ہوجاتا ہے۔ کہیں اگر پائپ لائن ڈالنے کے لیے کھدائی ہو تو پھر اتنے شاعر نکلتے ہیں جیسے برسات میں پتنگے نکلتے ہیں۔

کبھی کبھی کراچی میں ٹماٹروں کی اتنی افراط ہوجاتی ہے تو ان کی قیمت دس روپے کلو تک گر جاتی ہے، لیکن شاعروں کی یہاں اس قدر اور بےاندازہ افراط ہے کہ اب وہ بے قیمت ہوچکے ہیں، البتہ ان کی شاعری کی قدروقیمت قائم ہے اور چار سے چھ روپے کلو میں فروخت ہو جاتی ہے۔

To read more clikc HERE

Categories: Asia, Pakistan

Leave a Reply