مسجد نبوی کی توسيع کے بہانے سعودی عرب کے بنیاد پرست حکمران طبقے نے اسلام کی تین قدیم ترین مساجد کو منہدم کرنے کا پروگرام بنایا ہے . اس سے پہلے بھی سعودی عرب اسلامی ثقافتی اور تاریخی مقامات کو منہدم کر چکا ہے جن میں اہم شخصیات کے مزار، قدیم مساجد اور قدیم گھر شامل ہیں . بن الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی طرف سے اسلامی ثقافتی، تاریخی اور اثار قدیمہ سے منسلک عمارت کو محفوظ نہ کرنے اور انکو حقیر سمجھنے کے رویے پر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے. پر افسوسناک بات یہ ہے کہ مسلم دنیا خاص طور پر پاکستان میں طویل عرصے سے چلی آ رہی اس روایت پر کوئی آواز نہیں اٹھتی. اس توسيع کے پلان سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کے مقبرے بھی متاثر ہو سکتے ہیں.
Following links give an idea what is being build after such demolition:
http://mideastposts.com/2011/01/ibn-big-ben-casts-its-gargantuan-shadow-over-mecca/
http://www.guardian.co.uk/artanddesign/2012/oct/23/mecca-architecture-hajj1
مفتی سعودی سارے فساد کی جڑ ھے