Hadia Tajik appointed Minister in Danish cabinet

صوصی رپورٹ : شازیہ عندلیب ۔ اوسلو ۔

ناروے میں لیبر پارٹی کی رکن، انتیس سالہ پاکستانی نژاد، ہادیہ تاجک کو ملک کی وزیر ثقافت ہونے کا عہدہ سونپ دیا گیا ہے ۔ ہادیہ نارویجیئن کابینہ میں وزارت سماجی امور سنبھالنے والی سب سے کم عمر اور تارک وطن پس منظر رکھنے والی پہلی مسلمان نوجوان خاتون ہیں ۔

ہادیہ تاجک نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز ١٩٩٠ میں کیا اور ١٩٩٩ میں وہ لیبر پارٹی کی ایک علاقائی یوتھ برانچ کی رہنما منتخب کر لی گئیں۔ اور پھر ٢٠٠١ میں انہیں ان کی شاندار سیاسی کارکردگی کی بنیاد پر لیبر پارٹی کی ایک بڑی یوتھ شاخ کی قیادت سونپ دی گئی ۔ اور اسی کے ساتھ ہے ہادیہ تاجک صحافت کے میدان میں داخل ہوگئیں اور انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز، جرنلزم میں بیچیلر کرنے اور برطانیہ کی ایک یونیورسٹی سے ’’ انسانی حقوق ‘‘ کے مضمون میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد، ناروے کے کثیر الاشاعتی روزنامہ ’’ آفتن پوسٹن ‘‘ اور ’’ دی گی ‘‘ سے کیا ۔ وہ ناروے ہی کے، ڈاگبلیڈٹ، مورگن بلیڈٹ اور آفتن بلیڈٹ کے لیے بھی صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دیتی رہیں ہیں لیکن ٢٠٠٦ میں انھوں نے اپنے آپ کو صرف ’’ سیاست ‘‘ کے لیے وقف کر دیا ۔ نارویجیئن صحافتی دنیا اور میڈیا میں، ہادیہ تاجک کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور ان کی رپورٹوں اور مضامین کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور ایک ذمہ دار صحافیانہ مقام دیا جاتا ہے ۔ وہ ’’ سفید پہ کالا ‘‘ نامی ناریجیئن زبان میں ایک کتاب کی بھی مصنفہ ہیں ۔ اور قانون کی ڈگری بھی رکھتی ہیں ۔

اپنی لیبر پارٹی کے بیشتر پرانے سیاستدانوں کے مقابلے میں با لخصوص اور نارویجیئن سیاسی پنڈتوں کے درمیان بالعموم ایک طرح سے ’’ نووارد سیاستدان ‘‘ ہونے کے باوجود پاکستانی نژاد، ہادیہ تاجک کو ایک بیباک سیاستدان مانا جاتا ہے ۔

سنہ ٢٠١٠ میں انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غیر ملکی پس منظر رکھنے والے افراد کو ’’ حکومتی پارٹی ‘‘ میں شامل کرنے میں بہت سست و کاہل ہے ۔ تب انہوں نے اسے ایک ’’ جمہوری مسئلہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ غیر ملکی پس منظر کے حامل افراد کو ’’ حکومتی پارٹی ‘‘ میں شامل کرنے کے لیے تگ و دو کی جائے اور ان لوگوں کو  روزمرہ کی زندگی کے دیگر حلقوں کے ساتھ ساتھ، سیاست میں بھی آگے لانے کے لیے ہمت افزائی کی جائے ۔

ناروے کی نئی وزیر ثقافت، ہادیہ تاجک کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن خود انہوں نے اپنی ابتدائی اور دیگر تعلیم و تربیت ناروے ہی میں حاصل کی ہے ۔ وزیر ثقافت کا عہدہ سبنھالنے پر ہادیہ تاجک کے بارے میں ایک نارویجیئن اخبار نے لکھا ہے کہ ’’ ہادیہ تاجک پارلیمنٹ میں تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوں گی ۔

ہادیہ تاجک کو ناروے کی وزیر ثقافت بنائے جانے پر  ڈنمارک سے انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے ’’ اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ‘‘ کے مدیران، ہما نصر اور نصر ملک نے ان کے نام مبارک باد کے اپنے پیغام میں ان کی کامیابیوں کے لیے دعا کی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہادیہ تاجک کو ناروے کی وزیر ثقافت بنایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ناروے ایک کثیر الثقافتی ملک ہے اور وہاں نسلی اقلیتیوں سے برابری کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنی قابلیت کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقعے میسر ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہادیہ تاجک، کم عمری ہی سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی چلی آ رہی ہیں اور اب انہیں  جس عہدے کے ،لیے منتخب کیا گیا ہے وہ یقیناً اس کے اہل تھیں اور وہ اپنی ذمہ

http://www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=PakistanisinEurope&article=831داریاں نبھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیں گی ۔

Categories: Denmark, Europe

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.