Jama’at-e-Ahamadiyya Austria’s Bookstall in Vienna International Bookfair

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

جماعت احمدیہ آسٹریا کے زیر اہتمام ویانا انٹرنیشنل بک فیئر میں اسلام کی نمائندگی میں بک سٹال

تیس زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم اورمختلف زبانوں میں  سینکڑوں اسلامی کتب کی نمائش

چار ہزار سے زائد افراد کوپانچ ہزار سے زائد کتب اور کتابچوں کی تقسیم

اسلام کے خلاف اعتراضات کا جواب اور اسلام کی خوبصورت تعلیم کی تبلیغ

ایرانی رکن ِ پارلیمنٹ اور دیگر زعماکی آمد،کلمہ طیبہ کی وسیع اشاعت

 اور” محبت سب کے لئے،نفرت کسی سے نہیں “ کا پرچار

اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ آسٹریا کو مؤرخہ بائیس تا پچیس نومبر 2012 ویانا انٹر نیشنل بک فیئر میں ایک تبلیغی بک سٹال لگانے کی توفیق ملی۔الحمد للہ علی ذٰلک ۔ویانا انٹرنیشنل بک فیئر وسطی یورپ کے ممالک کا ایک بہت مقبول کتاب میلہ ہے۔ مؤرخہ21نومبر کو بک فیئر کا افتتاح جناب ہائنس فشرHEINZ  FISCHER  صدر مملکت آسٹریا نے کیا۔افتتاحی تقریب کے بعد موصوف سٹالزکا معائنہ کرتے ہوئے ہمارے سٹال پر بھی تشریف لائے اور جماعت کے نمائندے سے ملاقات کی۔

اس بک فیئر میں میں علاقہ کی تیرہ قوموں کے 322 اشاعتی اداروں نے اپنی کتب کا تعارف کروانے کے لئے بہت خوبصورت،دیدہ زیب اورپر کشش سٹال لگائے۔گذشتہ سال زائرین کی تعداد 33000تینتیس ہزار تھی۔جبکہ اس سال 34000چونتیس ہزار افراد نے چار دن میں اس کا وزٹ کیا۔

اللہ کے فضل سے جماعت کو بھی ایک چھوٹا سا لیکن بہت عمدہ اور پرکشش سٹال لگانے کی توفیق ملی۔بک فیئر میں آنے والےکم و بیش ہر زائرنے ہمارے سٹال کے ذریعے اسلام کی نمائندگی کو محسوس کیا ۔

ان میں سے 4550 سے زائد افراد  نے قرآن کریم کے مختلف زبانوں کے تراجم،مختلف زبانوں میں اسلامی تعلیم پر مبنی کتب،کتابچے،دوورقے اوردیگر مطبوعہ مواد حاصل کیااورجذبہ شکر گذاری کا اظہار کیا۔130 سے زائد افراد نےسٹال پر ٹھہر کراسلام کے بارے میں  تفصیلی گفتگو کی  ۔اور مزید معلومات کے حصول کے لئے جماعت کے مشن ہاؤس  کا ایڈریس اور ویب سائٹس کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔5395 کی تعداد میں تراجم قرآن کریم، کتب ، کتابچےاور پمفلٹ وغیرہ اس میلے میں تقسیم کرنے کا موقع ملا۔

اس سال تقسیم کی جانے والی تبلیغی کتب میں بطور ِ خاص سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدکم اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اس خطبہ جمعہ کا جرمن ترجمہ بھی شامل تھا،جس میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز فلم کے مذمت کر کے مسلمانوں کواسلامی تعلیمات کے لحاظ سے مناسب رد عمل ظاہر کرنے کی طرف رہنمائی فرمائی تھی۔یہ خطبہ 750کی تعداد میں آسٹرین افراد میں تقسیم کیا گیا۔اور اس طرح انہیں اس معاملے میں درست اسلامی تعلیم کا علم ہوا۔

زائرین میں آسٹرین،البانیئن،آرمینئن،رومانیئن،ترک،بوسنیئن،ایرانی ،پاکستانی،بنگالی،سعودی، عراقی،جرمن، ،کرد،آئیوری کوسٹ اورہندوستانی اقوام سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مرد ،عورتیں اور بچے شامل ہیں۔سٹال پر کلمہ طیبہ کا خوبصورت بینر لگایا گیا جو نیشنل سیکرٹری تبلیغ عزیزم نیک محمد صاحب نے لکھا۔اس کے ساتھ جماعت کا نام لکھا گیا۔سٹال پر ڈیوٹی دینے والے احباب نے ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پرجلی حروف میں جرمن زبان میں ”مسلمان امن کے حامی  ہیں“لکھا ہوا تھا۔اسی طرح جرمن زبان میں ”محبت سب کے لئے ،نفرت کسی سے نہیں“  کا بینر لگایا گیا۔جو شرکا کے قدم تھام کر ان کو سٹال پر کھینچ لاتا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سےسارے بک فئیر میں اسلام کےامن ،محبت انسانیت اور رواداری کے زندگی بخش پیغام کی نمائندگی یہ واحد سٹال کر رہا تھا۔جہاں پر آسٹرین قوم کو ان کی زبان میں قرآن کریم،قرآن کریم کی منتخب آیات ،منتخب احادیث ،منتخب تحریرات  حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور بڑی تعداد میں مختلف موضوعات پر اسلامی  کتب میسر تھیں۔

 اس کتاب میلہ میں تیس زبانوں میں قرآن ِ کریم کے ترجمہ کی نمائش لگائی گئی جو جماعت ِ احمدیہ کی طرف سے شائع کیے گئے ہیں۔ خصوصاً جماعت کی طرف سے شائع کردہ جرمن ترجمہ قرآن زائرین کی خاص دلچسپی کا باعث تھا۔

سٹال کو وزٹ کرنے والوں میں مختلف نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں۔جن میں جناب علی اکبر ناصری صاحب ممبرایرانی پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔موصوف اس سے پہلے ویٹیکن سٹی میں ایران کے سفیر بھی رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ ویانا میں ایران کے کلچرل اتاشی جناب علی رضا مالکیان بھی تھے۔ اور ایرانی کلچرل سنٹر کے انچارج جناب محمود منتظری صاحب سے بھی علیحدہ  ملاقات ہوئی۔

ایک مصنف اور فلم پروڈیوسر جنابHARVEY  FRIEDMAN بھی ہمارے سٹال پر تشریف لائے۔انہوں نےہمارے سٹال سے جرمن ترجمہء قرآن،’مسیح ہندوستان میں اور دیگر چند کتابیں خریدیں ۔انہوں نےبتایا کہ وہ  بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئےیہودیت،عیسائیت اور اسلام کے بارے میں ایک سلسلہ وار فلم بنا رہے ہیں ۔سیدنا حضرت مسیح  ِ موعودؑ کی تصویرکی طرف اشارہ کر کے کہا کہ  اس منصوبے کو شروع کرنے میں  اس شخصیت کا بڑا رول ہے۔میں نے گوگل سے ان کے حالات  ِ زندگی لے کر اپنی کتاب میں بھی ذکر کیا ہے۔اس پر خاکسار نے انہیں بتایا کہ اگر آپ پسند کریں تو جرمن زبان میں آپ کو ان کی زندگی کے بارے میں کتاب تحفۃ ً پیش کی جاسکتی ہے۔انہوں نے بہت شکریہ کے ساتھ کتاب وصول کی۔اسی طرح انہوں نے عالمی اقتصادی نظام کی خامیوں کا ذکر کرکے اس کے تباہی کے دہانے پر ہونے کا ذکر کیا اور کہا کہ لازم ہے کہ ایک نیا عالمی اقتصادی نظام ہو جس کی بنیاد سود پر نہ ہو۔اس پر انہیں ’نظام  ِ وصیت ‘کے ذریعےنئے عالمی اقتصادی نظام کے قیام کے بارے میں حضرت مسیح  ِ موعودؑکا نظریہ بتایاگیا۔بعد ازاں انہیں حضرت مصلح ِ موعودؓ کی کتاب ’نظام ِ نو ‘ اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ  کی کتاب  ’ اسلام اور عصر ِ حاضر کے مسائل کا جواب ‘ کا ویب لنک بھجوایا گیا۔گفتگو کے دوران پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر آنے پر انہوں نے کہا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مامور کیا جاتا ہے تو اس کی جماعت کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔

 اسی طرح سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب   اسلامی اصول کی فلاسفی  اور  مسیح ہندوستان میں  کے جرمن تراجم بھی زائرین کی خصوصی توجہ کامرکز رہیں۔اور ان کا تعارف کرواتے ہوئے بہت تبلیغ کی توفیق ملی۔

سیدنا حضرت مسیح ِ موعودؑ کی شہرہ ء آفاق کتاب ’ مسیح ہندوستان میں  ‘ کا تعارف

ویانا انٹرنیشل بک فیئر کی روایت کے مطابق  مشہور اخبار اور ٹی وی اپنی پبلسٹی کے لئے اپنے اپنے پیولیئنزPAVILLIONS سجاتے ہیں،جہاں نمائش میں رکھی گئی مختلف کتب کا تعارف کروایا جاسکتا ہے۔اس سال ہمیں بھی ایک کتاب کا تعارف کروانے کی سہولت دی گئی۔ چنانچہ بک فیئر کے آخری روز آسٹریا کے مشہور اخبار ’ڈیر شٹنڈرڈ‘DER STANDARD  کی طرف سے LITERATURE  COFFEE کے نام سےبنائے گئے علاقےمیں سیدنا حضرت مسیح ِ موعودؑ کی شہرہ ء آفاق کتاب

 ’ مسیح ہندوستان میں  ‘ کا تعارف ہمارے آسٹرین احمدی بھائی مکرم محمد یونس مایئر ہوفر  صاحب نے کروایا۔ اس مقصد کے لئے سٹیج پر آسٹریا کےمشہو ر ریڈیو ORFکے معروف  ماڈریٹر جناب        وولف گانگ پوپ WOLFGANG  POPP  نے ہمارے آسٹرین احمدی بھائی مکرم محمد یونس  مائیر ہوفرصاحبMUHAMMAD  YUNUS  MAIERHOFER  سے  کتاب کے بارے میں انٹرویو کیا۔اورحضرت عیسیٰؑ کی صلیب سے نجات اور کشمیر میں جانے کے بارے میں حضرت مسیح ِ موعودؑ کے بیان فرمودہ دلائل کے بارے میں سوالات کئے۔کتاب کے تعارف سے پہلے کتاب کے مصنف حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی شخصیت اور دعویٰ کا بھی تعارف کروایا گیا۔جناب  وولف گانگ پوپ صاحب   نےجماعت کا تعارف کرواتے ہوئے خود بھی  اس کو ایک پر امن جماعت قرار دیا اور بین مذاہب ہم آھنگی اور امن کے ضمن میں جماعت کی خدمت کا اعتراف کیا۔نیز جہاد کے بارے میں حضرت مسیح ِ موعودؑ نے جوصحیح اسلامی تعلیم پیش کی ہے اس کی بھی تعریف کی۔الحمدللہ یہ مجلس بہت کامیاب رہی اوراسی80 کی تعداد میں آسٹرین لوگوں نے  اس میں شرکت کی۔

Munir Ahmad Munawar
Murabbi Silsila, Austria

++++++++++++++++++++++++++++++++++++++++

Austrian Ahmadiyya Muslim Community- Excellent performance in National Book Fair.

One of the most famous book fair in Europe, the Vienna International Book Fair was organized from 20th to 25th of November 2012 in Austria.

By the grace of Allah, the Almighty, the Ahmadiyya Muslim Community Austria got the opportunity to establish a book stall in the Book Fair. Opening ceremony of the Book Fair was performed by Mr Heinz Fisher, the the President of Austria. A total 34000 visitors paid the visit to the book fair, and almost 4550 came to Ahmadiyya Book Stall and benefited from the literature, Masha’Allah!

Approximately 200 discussed Islam Ahmadiyyat in detail. A big exhibition containing 30 different translations of Quran were placed on the stall which proved to be a big attraction for the visitors. Quantity-wise 5395 count of literature was distributed amongst the visitors which included Qur’an-e-Majeed too.

Friday Sermon of Supreme Head of Ahmadiyya Muslim Community which he delivered as response of Ahmadiyya Community to film Innocence of Muslims was also distributed to about 750. Over all the book stall proved to be a big break-through to present the real teachings of Islam in Austria. Moballigh in charge, National President and other members of the Jamaat worked very hard to make the even a success.

2 replies

  1. I think putting writings in Urdu is better but it must be translated in English language also. In Urdu, it is only from small community in somewhere who is least interested in this news. But it is good try but it will create problems later and also doubts will emerge out of this. Thanka

  2. Mashallah, Allah Tala JAMAT AHMADIYYA AUSTRIA ki is kawash ko qabool farmaay aor tmam workers ko jaza de aor apne khas fazlon sy hamesha nawazta rahe. Aameen.

Leave a Reply