[Urdu Article] "قادیان کے بارے میں ایک نظم‎" by Arshi Malik

حشر تک اُونچا رہے مولا ،لوائے قادیاں

ارشاد عرشیؔ ملک

حشر تک اُونچا رہے مولا ،لوائے قادیاں
ضامنِ امن و سکوں،آب و ہوائے قادیاں

خون کی صورت رواں ہم میں وفائے قادیاں
ہم کو کہتا ہے زمانہ، مبتلائے قادیاں

مرہمِ اکسیر ہے وہ،دل کے زخموں کے لئے
ہم مریضِ عشق ہیں ،لاؤ دوائے قادیاں

ابتدائے عشق سے بھی ،جو ابھی واقف نہیں
کیا کہیں ہم اُن سے عشقِ انتہائے قادیاں

اس زمیں پر ان گنت بانکے سجیلے شہر ہیں
کوئی آنکھوں میں نہیں جچتا،سوائے قادیاں

قادیانی کہہ رہے ہیں وہ ہمیں نفرت کے ساتھ
ہائے وہ غافل ،نہیں جو آشنائے قادیاں

تم تو کہتے تھے ہے مبنی جھوٹ پر یہ سلسلہ
آؤ دیکھو برکتوں سے پُر فضائے قادیاں

اپنے مہدؑ ی کے لئے جس کو چُنا اللہ نے
کون سی بستی ہے جگ میں ماسوائے قادیاں

جو بھی رُوحانی خزائن تھے لُٹائے جا چکے
اب وہی اسباق دنیا کو پڑھائے قادیاں

ننگِ روحانی چُھپانے کے لئے تم دیکھنا
اوڑھ لے گا کُل جہاں ،اِک دن ردائے قادیاں

قُربِ مولا کا سفر درپیش ہے تو راہ میں
لازماً آئے گی پھر اُلفت سرائے قادیاں

جب ہواؤں سے سُنی آہٹ مسیحِ وقت کی
خیر مقدم کو بڑھی آگے فضائے قادیاں

داغِ ہجرت بھی تھا اِک الہام ،جب پورا ہوا
ہجر کے مارے تڑپتے تھے کہ ہائے قادیاں

دل پہ پتھر رکھ کے نکلا ،اِک گروہِ عاشقاں
پر وہیں ٹھہرے رہے ،کچھ اولیائے قادیاں

دورِ درویشی گزارا ،شانِ استغنا کے ساتھ
فقر میں بھی ہو گئے وہ اغنیائے قادیاں

فضلِ ربّی سے ملا اُن کو مقدس مائدہ
ہیں شہنشاہوں سے بھی بڑھ کر، گدائے قادیاں

نان کی صورت ملا تھا ،جو مسیحِ وقت کو
لنگروں کی شکل ،دنیا کو کھلائے قادیاں

جا ہی پہنچی ہے کناروں تک زمیں کے آخرش
ڈش کے زریعے گونجتی ہے اب صدائے قادیاں

ہے خلافت کا جو سر پر سائباں اس واسطے
گنگناتی گیت گاتی ہے ،ہوائے قادیاں

یوں محبت کے قفس میں مرد و زن ،سب ہیں اسیر
جی نہیں پاتے کبھی چُھٹ کر رہائے قادیاں

وہ بہشتی مقبرہ،بیت الدعا،دارالمسیح
نقش اپنی روح پر ہیں ،کوچہ ہائے قادیاں

احمدی ،عرشیؔ بھلے یوکے کا ہو کہ چین کا
وہ محبت ہی محبت ہے، برائے قادیاں

*******

Leave a Reply