ارشاد عرشیؔ ملک
تھی خبر جس کی صحائف میں تو وہ محمود تھا
تو وہی مصلح مقدس تھا وہی موعود تھا
جس قدر خبریں مسیحؑ کی آمدِ ثانی کی تھیں
ان سبھی خبروں میں تیرا تذکرہ موجود تھا
سب حدیثوں کی کُتب میں ذکرہے تیرا لکھا
اس سے ثابت ہے کہ رتبہ تھا ترا بے حد بڑا
تو دعائوں کا ثمر تھا مہدیِ معہود کی
کس طرح عرشیؔ بیاں تعریف ہو محمود کی
نیم باز آنکھیں تھیں گو نصرت جہاں کے لال کی
پھر بھی رکھتی تھیں خبر ہر چیز کے پاتال کی
حُسن و احساں میں مسیحِؑ پاک کی تصویر تھا
دیں کی غیرت میں مگر تو اک کھلی شمشیر تھا
تو کہاں اک فرد تھا، اک عہد تھا اک دور تھا
رخ بدل دیتے ہیں جو دنیا کا،وہ شہ زور تھا
کارنامے تیرے لکھ پائوں نہیں میرا مقام
ہے قلم میرا شکستہ اور تو ماہِ تمام
میرے پیارے تجھ کو کرتی ہوں عقیدت سے سلام
عجز آڑے آ گیا مجھ میں نہیں تابِ کلام
…………………………………
Like my facebook page: https://www.facebook.com/ArshiMalik100
Categories: Ahmadiyyat: True Islam, Asia, Islam, Pakistan
