Source: BBC
معروف شاعر چوہدری محمد علی مضطر انتقال کر گئے
ردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر پروفیسر چوہدری محمد علی مضطر عارفی جمعے کے روز اٹھانوے سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
چوہدری محمد علی نہ صرف قادرالکلام شاعر تھے بلکہ ایک طویل عرصے تک انھوں نے درس و تدریس کے شعبے میں بھی خدمات سرانجام دیں۔
آپ 1917 میں ضلع فیروزپور پنجاب میں پیدا ہوئے اور آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں کافی عرصے تک پڑھایا اور یونیورسٹی کی سینیٹ اور اکیڈیمک کونسل کے رکن رہے۔ آپ نے ایف سی کالج میں بھی درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیے اور کالج کے شعبہ فلسفہ کے صدر بھی رہے۔
انیس سو ستتر میں پولیس چوکی سمن آباد لاہور کے قریب کسی نے چوہدری محمد علی مضطر کے دوست کی گاڑی سے ایک بریف کیس چوری کیا۔ بدقسمتی سے اس بریف کیس میں چوہدری صاحب کی جوانی میں لکھی ہوئی شاعری کا بڑا حصہ تھا۔ اس واقعے کے بعد آپ نے اور کئی نامور ادیب اور شعرا نے اس چور کو مخاطب کر کے بہت سے کالم اور خطوط لکھے اور انعامات کا اعلان بھی کیا گیا۔
مگر شاید چور پڑھا لکھا نہ تھا یا شاید اس نے چوہدری صاحب کے کام کو جلد ہی ٹھکانے لگا دیا اور اس کے نتیجے میں اردو ادب شاعری کے اس خزانے سے محروم ہو گیا۔ جناب احمد ندیم قاسمی نے اٹھائیس ستمبر انیس سو ستتر کو امروز اخبار میں چور کے نام خط لکھا۔ خط میں لکھا کہ ’بریف کیس بے شک اپنے پاس رکھیں مگر چوہدری صاحب کے کاغذات واپس فرما دیجیے۔ آپ عنداللہ ماجور ہوں گے۔‘ یاد رہے کے اس بریف کیس میں چوہدری صاحب کی تین درجن سے زیادہ غزلیں اور بہت سا دوسرا کام تھا اور یہ سب غیر مطبوعہ تھا۔
احمد ندیم قاسمی نے تو اس خط میں یہاں تک لکھا کہ اگر چور اتفاق سے شاعر بھی ہے تو مقطع میں کم از کم اپنا تخلص داخل کر کے انھیں کم سے چھپوا ہی دے تاکہ چوہدری صاحب کو کم از کم یہ تسلی ہو کہ ان کی کاوش مکمل طور پر غارت نہیں ہو گئی۔
