تو کیا اب ایک اور افغانستان؟

Source: Ibtida
PM Nawaz Shareef and King Abdullah of Saudi Arabia

PM Nawaz Shareef and King Abdullah of Saudi Arabia

Pakistan shakes Hands with KSA against Syria

تحریر: ٹیپو یوسفزئی

ہمارے بھولے بادشاہ سمجھ رہے تھے کہ تخت سعود والے تخت لاہور کے پاس مشرف صاحب کی جان خلاصی کروانے
آرہے ہیں۔ لیکن یہاں تو بات ہی دوسری نکلی۔ عقدہ یہ کھلا کہ سارا معاملہ ہی شام کے معاملے پر تخت سعود کی حمایت کرنے کا تھا۔ اب اسے حسن اتفاق کہیے یا 35پنکچروں کا کمال کہ پاکستان میں اس وقت نواز شریف صاحب کی حکومت ہے جسکے تخت شاہ سعود سے کچھ‘خاص ’قسم کے تعلقات ہیں۔ اور الباکستان نے جو اس وقت تخت لاہور کا دوسرا نام ہے اپنے ‘برادر’ ملک السعودیہ کی حمایت کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ ہم نے کچھ اسی قسم کی چال افغانستان میں بھی ڈالروں کے عوض چلی تھی جسے آج تک بھگت رہے ہیں۔ مگر لگتا ہے نواز شریف صاحب جو کسی زمانے میں ضیاء الحق کے روحانی بیٹے مشہور تھے ، اب صرف مشہوری پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں ہیں بلکہ اب وہ اسے ثابت کرنے پر تُل گئے ہیں۔ اب کی دفعہ جو چال چلی گئی ہے اس میں تانا بانا تو سارا وہی ہے جو نواز شریف صاحب کے منہ بولے ابا جان نے بنا تھا لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ امریکہ کی جگہ السعودیہ نے لے لی ہے۔ افغانستان کی جگہ مملکت شام ہے۔ پہلے ہم نے افغانستان جیسے ہمسائے میں چھیڑ خانی کی تھی۔ اب کی بار ہمسایہ (سابقہ برادر) ملک ایران ہے اور ڈالروں کی جگہ اب ریال اور تیل ملے گا۔ بھلے وقتوں میں ہم اس معاملے میں غیر جانبدار رہے ہیں۔ کیونکہ سابقہ حکومتوں کو خوب اندازہ تھا کہ پرائی لڑائی مول لینا اور اپنے ہمسایہ ایران کو ناراض کرنا موجودہ حالات میں کسی طرح مناسب نہیں۔ ابھی تو ہم سے اپنا ملک سنبھالا نہیں جارہا اور ایک طرف افغانستان اوردوسری طرف ہندوستان سے بھی پنگے چل رہے ہیں۔ ایسے میں اپنے ہمسائے میں ایک اور دشمنی پال لینا کونسی عقلمندی ہے۔ کیا نواز شریف صاحب کو پنگے لینے کے علاوہ بھی کچھ آتا ہے؟ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ جب ایران اور امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کے درمیان حال ہی میں ایک معاہدہ ہوا تھا تو صرف دو ملکوں نے اسکی مخالفت کی تھی۔ ایک تو ہمارا برادر السعودیہ تھا اور دوسرا اسرائیل ۔ اور ہم حیران تھے کہ یا الٰہی یہ کیا معاملہ ہے کہ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھے کہ اسرائیل اور السعود کے مفادات ایک طرف ہوگئے جبکہ دوسرا فریق کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ بہادر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان جو ایک اور پرائی جنگ میں کود پڑا ہے جسکی وجہ یقیناً وہ تیل اور ریال ہیں جو اسکے بدلے میں ہمیں السعود کی طرف سے ملیں گے جس سے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی پر پردہ پڑے گا۔ مگر کیا کوئی سوچ رہا ہے کہ اسکا نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا ہم طالبان سے جو مذکرات کے نام پر معاملات لٹکاتے چلے آرہے ہیں وہ اسی دن کے لئے تھے کہ ان طالبان کو ایک نئے جہاد پر روانہ کیا جانا تھا؟ کیا اسی دن کے لئے طالبان کے ناز و نخرے برداشت کئے جارہے تھے اور اپنے عوام اور سپاہ کے خون بہنے پر خاموش تھے کہ ان طالبان کو شام کے محاذپر لگا کر ایکبار پھر تیل اور ریال وصول کئے جائیں اور پاکستانی عوام کو ایک اور جنگ میں دھکیل دیا جائے؟ اور ایک بار پھر جہاد کے نام ملاؤں کا کاروبار چمک اٹھے؟ کیا اب کی بار بھی ہماری سول سوسائٹی بھنگ پی کر سوتی رہے گی اور ریاست پاکستان کے بچے اسے بیچ کر کھاتے رہیں گے؟ یہ مجھے یقین ہے کہ ایک بار پھر مذہبی جماعتیں اور عمران خان جیسے لوگوں کو اس سارے قصے کی خبر ہی نہ ہوگی۔ اگر ہوگی تو سوائے امریکہ کو صلواتیں سنانے کے اور کوئی بات کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں گے۔ پاکستان سے تو پہلے ہی کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ ایران شیعہ ملک ہے اسکی دشمنی بھی اپنی دکانداری چمکانے کا ایک بہانہ بن جائے گی ۔ پہلے کفرسازی کا قرعہ صرف احمدیوں کے نام ہی نکلا تھا کیونکہ ان بےچاروں کی پشت پناہی پر کوئی ملک نہیں تھا۔اس وقت پاکستان کے ایران سے اچھے تعلقات ہوا کرتے تھے اس لئے کسی کو ہمت نہیں تھی کہ شیعوں کو بھی کافر قرار دے۔ لیکن اب لگتا ہے ایران کو ناراض کرنے کے بعد اب جن ملاؤں کی طاقت میں اضافہ ہوگا وہ احمدیوں کے بعد اب شیعوں کے خلاف بھی اپنی چھریاں تیز کریں گے۔ غیر ریاستی طور پر تو پہلے ہی چھریاں چل رہی ہیں ۔ اب کی بار شاید آئینی چھریاں بھی چل جائیں۔

Categories: Asia, Pakistan, Saudi Arabia, Syria

Leave a Reply