طالبان سچے ہیں اور ہم جھوٹے ہیں
Courtesy: Obaidullah Khan
تحریر: ٹیپو یوسفزئی
یہ ملک طالبان کا ہےاور انکا موقف سو فیصد درست ہے۔ وہ سچے محب وطن ہیں اور پاکستان کے مقدس آئین کے محافظ ہیں۔ پاکستان کے سچے محافظ اس وقت طالبان ہیں اور جو لوگ انکے مخالف ہیں اور انہیں گمراہ سمجھتے ہیں درحقیقت وہ خود گمراہ ہیں اور آئین پاکستان کی پامالی کرنے والے ہیں۔ یہ ترانہ جو ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ‘یہ وطن تمہارا ہے ۔۔۔ تم ہو پاسباں اسکے۔’ یہ دراصل طالبان کے لئے ہی ہے۔ ہماری موجودہ حکومت یہ بات خاص طور پر سمجھتی ہے۔ اگر آپ کی یادداشت اچھی ہو تو نوازشریف صاحب 1999میں امیر المومنین ہی بننے جارہے تھے۔ وہ تو برا ہو پاکستانی فوج اور پرویز مشرف کا اچھا بھلا شریعت کا نفاذ ہونے چلا تھا کہ شریعت کی بساط ہی لپیٹ دی۔
آپ یقیناً حیران ہورہے ہونگے کہ یہ کیا لکھ رہا ہوں ۔ شاید میں نے پی رکھی ہے جو بہکی بہکی باتیں لکھ رہا ہوں۔ مگر یقین جانیے یہی حقیقت ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو پاکستان کے ‘مقدس’ ترین صحیفے آئین کا مطالعہ کرلیں۔ آپ کو بھی نظر آجائے گا کہ طالبان ہی حقیقی آئینی روح کے تحت امور سرانجام دے رہے ہیں۔
آخر ہمیں طالبان سے گلے ہی کیا ہیں؟ کہ وہ اپنی مرضی کا نظام ہم پر ٹھونسنا چاہتے ہیں؟ وہ جس مذہب کو صحیح سمجھتے ہیں اسکے مطابق سب کو چلانا چاہتے ہیں؟ جو انکے بیانیے کو اور اسلام کو نہیں مانتا اسے کافر قرار دے کرنہ صرف بنیادی حقوق سے محروم کردیتے ہیں بلکہ اس سے جینے کا حق بھی چھین لیتے ہیں؟ اظہار آزادی رائے پر پابندی لگاتے ہیں۔ سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق دینے کے قائل نہیں ہیں؟ یہی گلے ہیں نا؟
اور اسکے مقابل آپ کا موقف ہوگا کہ نہیں نہیں پاکستان میں جمہوریت ہونی چاہئے ۔ آئین کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ ہر شخص کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ کسی کو کافر قرار دینا اور کفر کے فتوے جاری کرنا قطعاً غلط ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ہونی چاہئے۔ ہر شخص ریاست میں رنگ، نسل اور عقیدے سے پاک ہوکر برابر کا شہری ہونا چاہئے۔ اگر واقعتاً آپ کے یہی خیالات ہیں تو بھولے بادشاہو ! آپ ہی پاکستان کے آئین کو پامال ہی نہیں کر رہے بلکہ اسے تسلیم نہ کرکے ریاست سے بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ جی ہاں واقعی ایساہی ہے۔ پریشان کیوں ہوگئے؟ احمقوں کی جنت سے نکلیں اور کڑوے حقائق کا سامنا کریں۔
آج طالبان جو کچھ بھی ہیں ہمارے اسی آئین کی بدولت ہیں۔ ان طالبان کو پروان چڑھانے والا اور انکی نظریانی نگہداشت کرنے والا کوئی اور نہیں ہمارا اپنا مقدس آئین ہے۔ جسے جیالوں کی پارٹی کے گرو جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ہم پر مسلط کیا تھا۔ سب سے پہلے باقاعدہ طور پر ریاستی سطح پر ہمارے آئین نے شہریوں کی مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کی تھی اور ریاست کا نظم و نسق چلانے کے لئے ایک خاص قسم کا مسلمان ہونا ضروری قرار دیا تھا۔ پھر اسکے بعد اسی آئین نے جمہوری اور مکمل آئینی طریقے سے یہ طے کیا کہ اس ریاست اور ملک میں رہنے والا کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ اور ایک طبقے کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کرکے اسے قانونی اور آئینی کافر بنا دیا۔ اور پورے جمہوری طریقے سے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون پاس کیا کہ کون مسلمان ہوگا اور کون مسلمان نہیں ہوگا۔ مسلمان کی وہ تعریف جو پچھلے چودہ سو سال پہلے بھی نہ بن سکی تھی وہ ہمارے اس مقدس آئین میں بنائی گئی۔ پھر سرکاری طور پر قرار دیے گئے مسلمانوں کے علاوہ سب پر اپنے مذہب کے پرچار پر پابندی لگانے کا سہرا بھی تو اسی آئین کے سر ہے ۔ اور یہی وہ دنیا کا منفرد ترین آئین ہے جسکے تحت اگر ایک خاص جماعت کے لوگ اگر اپنے مذہب پر عمل کریں تو وہ ریاست کی نظر میں مجرم ہیں۔ اور جن لوگوں کو ہمارا آئین مسلمان تسلیم کرتا ہے انکا متفقہ عقیدہ ہے کہ جو انکے اسلام سے برگشتہ ہو اسے جینے کا کوئی حق نہیں ہے اوراسکی سزا موت سے کم کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی اسلام کے نفاذکی ہمارا آئین ضمانت دیتا ہے۔
جب ہمارا آئین انہی سب نظریات کا نہ صرف پرچار کرتا ہے بلکہ اسے ریاست کا مطمع نظر اور لائحہ عمل بتاتا ہے اور اسے ریاست میں بنیادی قانون کا درجہ حاصل ہے تو یہی نظریات تو طالبان کے ہیں۔ اب یہ فیصلہ کرلیں کہ آئین مقدس ہے یا نہیں۔ اگر آئین مقدس ہے تو طالبان بھی ٹھیک ہیں اور انکے مطالبے بھی جائز ہیں۔ اگر طالبان غلط ہیں تو آپ منافق ہیں۔ لہٰذا طے کریں کہ آپ کو آئین بچانا ہے یا اپنا آپ بچانا ہے؟ طالبان تو ایک علامت ہیں اس بیماری کی جسکی جڑھ ہمارے آئین میں ہے۔جی ہاں وہی آئین جس کے قصیدے پڑھتے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تھکتے نہیں ہیں۔ اور وکلاء اور میڈیا والے جس آئین کی مالا جپتے جپتے صبح کو شام اور شام کو رات کرتے ہیں۔ اور جس آئین کا واسطہ دے دے کر آمروں کو صلواتیں سنائے بغیر جمہوریت کی خدمت نہیں ہوسکتی۔
ہمارے چند بھولے بادشاہ جو طالبان سے بیزار نظر آتےہیں انکو آجکل بلاول زرداری کی صورت میں ایک نیا مسیحا نظر آرہا ہے بالکل اسی طرح جس طرح الیکشن سے پہلے ہمارے کچھ اور معصوموں کو عمران خان کی صورت میں نظر آرہا تھا جو ایک نیا پاکستان بنانے چلےتھےاور اب پرانا بھی ہاتھ سے جاتا نظر آرہا ہے۔ بلاول صاحب طالبان کے خلاف تو خوب زبان کھولتے رہتے ہیں اور اپنے تئیں اندھوں میں کانا راجہ ثابت کرتے رہتےہیں۔ مگر ہم تو انہیں حقیقی لیڈر اور نیا پاکستان بنانے والا اس روز تسلیم کریں گے جس دن وہ یہ اعلان کریں گے کہ انکے ناناحضور نے جو اس ملک میں اس آئین کے ذریعے طالبان کی داغ بیل ڈالی تھی وہ قابل مذمت ہے۔ اور دراصل یہ انکے نانا حضور کے ہی بوئی ہوئی فصل ہے جسے آج ہم طالبان کی صورت میں کاٹ رہے ہیں۔ اور جسکی آبیاری میں ضیاء الحق کی سرپرستی میں میاں نواز شریف نے بھی بھرپور حصہ ڈالا ہے۔
جناب ہوش کے ناخن لیں ۔ جب تک یہ آئین آپ پر مسلط ہے اسکے ہوتے ہوئے آپ پر طالبان ہی مسلط ہوسکتےہیں۔ اگر حقیقی جمہوریت چاہئے تو آئین کو حقیقی آئین بنائیں طالبان بنانے کا لائحہ عمل نہیں۔
Everybody has a right to claim to be true but nobody has the right to enforce their version of truth by force and legislation.
In 1974 and 1984 successive Pakistani rulers enforced their version of truths by force. Now the same nightmare is back to haunt them.
IF truth were to be monopolized based on “numbers” then ALL prophets would have been false.
The prophet Muhammad s.a.w.s. when he went to Madinah, he did not tell the people “Get ready. I have come with a Shariah law.”
Taliban are not right. They disobey the commands of Allah, most important “There is no compulsion in religion.” They kill innocent people.
Against the most honest advice of Imam Abu Hanifah, they rise against an established government. They think they can take on the world with their pistols and machine guns. But they will finish the Muslims only and Islam in the area.
Once the Taliban have done that bad work, the world powers will kill them easily. That seems to be the scenario.