Pakistan: Tempest in a teapot over appointment of a US Professor

Kaaba

Hajj and Kaaba are symbols of universal brotherhood and should serve us to defuse sectarian divide among the Muslims.  The Muslim Times has the best collection to overcome sectarian divide among the Muslims

مبشر علی زیدی کی ایک ٹویٹ کے جواب میں۔۔۔۔ کیا احمدی آئین پاکستان کے باغی ہیں؟

Source: Humsub website

حمدی کا موضوع پاکستان میں وہ شجر ممنوعہ ہے جس پر بات کرنے کےلئے آپ کو صرف اس صورت میں آزادی ہے اگر آپ ان کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں یا انہیں گالیاں دے رہے ہیں۔ اگر آپ احمدی نہیں ہیں اور غیر جانبدار رہتے ہوئے بھی احمدیوں کے بارے میں کوئی بات کرنا چاہیں تو آپ کو بار بار اس بات کا اظہار کرنا پڑ سکتا ہے کہ آپ احمدی نہیں ہیں۔ وگرنہ آپ پر سب سے پہلے احمدی ہونے کا الزام لگایا جائے گا اور پھر کوئی اور بات کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر تو احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ کرنے اور انہیں گالیاں دینے کی کھلی آزادی ہے۔ آپ جو چاہیں بنا ثبوت احمدیوں کے خلاف کہہ سکتے ہیں۔ کوئی بھی نیا شوشہ بغیر کسی بنیاد کے ان کے خلاف چھوڑ سکتے ہیں۔ کوئی آپ سے ثبوت نہیں مانگے گا۔ کوئی آپ سے دلیل نہیں مانگے گا۔ لوگ آنکھیں بند کرکے یقین بھی کرلیں گے اور کسی بھی سازشی نظریے کو چاہے وہ عقل اور حقائق سے کوسوں دور ہو، تسلیم کرلیں گے۔

اسی قسم کا ایک یکطرفہ پراپیگنڈہ جو مسلسل احمدیوں کے خلاف ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے کہ احمدی آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے اور خود ہی الزام دے کر خود ہی اس کا نتیجہ بھی یہ نکال لیا جاتا ہے کہ یہ آئین پاکستان کے باغی ہیں۔ پس اگر انکے خلاف دیگر اقلیتوں سے ہٹ کر کچھ زیادہ مذہبی تفریق برتی جاتی ہے تو وہ انکے آئین سے باغی ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ بات بھی کی جاتی ہے کہ اگر احمدی آئین کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم کرلیں تو ان کو وہ تمام شہری حقوق دیے جا سکتے ہیں جو کسی بھی اقلیت کو پاکستان میں حاصل ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جسکی نشر و اشاعت احمدیت کے مخالفین کی طرف سے دن رات سوشل میڈیا پر کی جاتی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس قسم کی انتہا پسندی پھیلانے والے زیادہ موثر نہیں ہیں۔ ان کے اس پراپیگنڈے کی اہمیت اس لئے بھی نہیں کہ ہر ذی شعور اور غیر متعصب انسان ذرا سی تحقیق اور عقل کے استعمال سے اس پراپیگنڈے کی حقیقت کو جان سکتا ہے۔ لیکن آج اس موضوع پر خامہ فرسائی کا موجب ایک نہایت ہی قابل اور معروف صحافی جناب مبشر علی زیدی صاحب کی ایک ٹویٹ ہوئی۔ جی وہی زیدی صاحب جن کی سو لفظوں کی کہانی لطافت، استعارہ اور اختصار میں اپنی مثال آپ ہے۔ اور ہم روزنامے میں جناب وجاہت مسعود صاحب کی تحریر چھوڑ سکتے ہیں، یاسر پیرزادہ کی تحریر کو بھی نظر انداز کرسکتے ہیں ۔ مگر سو لفظوں کی کہانی سے اغماض برتنا مشکل ہوتا ہے۔ موصوف فرماتے ہیں

 ’’ مجھے اس پر حیرت نہیں ہے کہ حکومت پاکستان نے ایک احمدی کو اہم عہدہ دیا۔ یہ ملک تمام پاکستانیوں کا ہے۔ جمہوریت میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ حیرت اس پر ہوگی کہ احمدی خود کو علی الاعلان غیر مسلم تسلیم کرتے ہوئے عہدہ قبول کرے گا۔ ‘‘

گویا اس پایے کا پڑھا لکھا انسان بھی اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اگر کوئی احمدی اپنے ملک پاکستان کی کسی رنگ میں خدمت کرتا ہے تو گویا علی الاعلان اپنے تئیں غیر مسلم تسلیم کرتا ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور معروف صحافی خاتون محترمہ فرحین رضوی صاحبہ نے بھی زیدی صاحب کے اس استنباط کو نہ صرف درست قرار دیا ہے بلکہ اسے بہت درست موقف قرار دیتے ہوئے فرماتی ہیں کہ ایسا کرنے سے جناب عاطف میاں صاحب اپنی احمدیہ کمیونٹی کے خلاف قدم اٹھارہے ہیں۔ یہ باتیں اگر کوئی عام احمدیت مخالف کرتا تو سمجھا جا سدکتا تھا کہ سوشل میڈیا پر تو یہ سب معمول ہے ۔ مگر جب تعلیم یافتہ اور عالم لوگ بھی اس قسم کی دلیل دیں تو کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

جہاں تک اس موقف کا سوال ہے کہ کیا احمدی اگر پاکستان کی کوئی خدمت کرتے ہیں تو اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں یا احمدیہ کمیونٹی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ایک سادہ سا سوال ہے ابھی کچھ عرصہ قبل ایک ہائیکورٹ کے جسٹس صاحب نے احمدی سرکاری ملازمین بالخصوص کلیدی عہدوں پر فائز احمدیوں کی فہرستیں تیار کروائی تھیں۔ اس سے اور جو ظلم کرنا مقصود تھا وہ تو علیحدہ رہا مگر یہ تو ظاہر ہونا چاہئے کہ احمدی سرکاری ملازمتوں پر فائز ہیں۔ افسر شاہی میں بھی ہیں، عدلیہ میں بھی ہیں، افواج پاکستان میں بھی ہیں، تعلیم کے شعبے غرض زندگی کے ہر شعبے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تو پوچھنا یہ تھا کہ کیا وہ سب یہ کام کرکے اپنے غیر مسلم ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہاتھ میں لئے پھرتے ہیں؟ جو ایک عاطف میاں کے کسی ملکی خدمت پر مامور ہونے سے اب کوئی انہونی ہوگئی ہے؟

دوسرا احمدیہ کمیونٹی نے کب کسی احمدی کو کہا ہے کہ ملک کی خدمت نہ کرو۔ بلکہ احمدیہ کمیونٹی تو خود ہمیشہ سے ملکی خدمات میں پیش پیش رہی ہے۔ اور اگر آپ کا خیال ہے کہ 1974 کے بعد سے احمدی خود ان خدمات سے روگردانی کر گئے ہیں تو بھی آپ کم علمی کا شکار ہیں۔ یہ ہمیشہ سے ریاست اور ریاستی اداروں ہی نے ایسی قانون سازیاں کی ہیں اور ایسے ضابطے بنائے ہیں کہ احمدیوں کو ملک کی خدمت کرنے سے روکا جائے۔  احمدی کبھی خود سے ملکی خدمات سے پیچھے نہیں ہٹے۔

جہاں تک یہ خیال ہے کہ احمدی آئین پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے یہ بھی حقائق اور سچائی کے منافی ہے۔ اس ملک میں اگر کوئی کمیونٹی احمدیوں سے بڑھ کر قانون کی پابند ہے تو دکھا دیں۔ کیا احمدیہ کمیونٹی کو آپ نے کبھی بھی ملکی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے دیکھا ہے؟ کیا آپ کو کرپشن، اقربا پروری، رشوت ستانی ملکی وسائل کی بربادی، انتہا پسندی، دہشت گردی ، قتل و غارت ، ملک سے غداری اور ایٹمی رازوں کی دیگر ممالک کو خفیہ ترسیل، منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری اور اس ملک کے دیگر جرائم میں احمدیہ کمیونٹی ملوث نظر آتی ہے۔

چلیں کمیونٹی کو چھوڑیں ان جرائم میں ملوث کتنے لوگ آج تک آپ کو احمدی نظر آئے ہیں؟ کیا کبھی احمدیوں نے اپنے جائز اور بنیادی حقوق بھی نہ ملنے پر بلکہ یکطرفہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ظلم پر بھی کبھی سڑکیں بلاک کی ہیں؟ کبھی دھرنے دیے ہیں؟ کبھی ریاست کو بلیک میل کیا ہے؟ کبھی احتجاج کے نام پر ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہے؟ اگر یہ سب کچھ آپ کو آج تک نظر نہیں آیا اور پھر بھی آپ اسے آئین کو نہ ماننا اور آئین سے بغاوت کہتے ہیں تو جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔۔

جہاں تک اس معاملے کے قانونی اور آئینی پہلوؤں کا تعلق ہے تو اس بارےمیں بھی یہ عرض ہے کہ آئین پاکستان میں کہاں لکھا ہے کہ احمدیوں کو غیر مسلم تو قرار دے دیا گیا ہے اب احمدی اپنے دل میں بھی اپنے آپ کو غیر مسلم سمجھیں؟ دلوں پر آئین کی حکومت نہیں ہوا کرتی اور نہ ہی کوئی قانون میرے دل کی سوچ پر میری گرفت کرسکتا ہے۔ ہاں اس آئینی ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ ریاست پاکستان میں چند اہم آئینی عہدوں پر صرف ان مسلمانوں کو فائز کیا جائے گا جنہیں آئین پاکستان میں دی گئی تعریف کے مطابق مسلمان کہا گیا ہے۔ اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ ان عہدوں کے لئے جو مسلمان قرار پاتے ہیں احمدی ان میں شامل نہیں ہیں۔ اور اس آئینی بندوبست کی رو سے احمدی غیر مسلم سمجھے جائیں گے۔ اسی لئے جب سے یہ آئین بنا ہے۔ اس دن سے کسی احمدی نے اس نیت سے الیکشن نہیں لڑا کہ وہ ان عہدوں پر فائز ہونا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں 1974 میں جب دوسری ترمیم کے لئے پارلیمنٹ میں احمدی وفد کے ساتھ بحث جاری تھی تو پاکستان کے اٹارنی جنرل جناب یحیٰ بختیار نے واضح الفاظ میں جماعت احمدیہ کے امام کو بتا دیا تھا کہ آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا مقصد صرف ایک رسمی کارروائی ہے جو آپ کی روز مرہ زندگی پر کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہوگی۔

دوسرا پہلو اس معاملے کا یہ ہے کہ آئین پاکستان کی کسی بھی شق سے بحیثیت شہری مجھے اختلاف ہوسکتا ہے۔ کسی قانون سے بھی مجھے اختلاف ہوسکتا ہے۔ اور اپنی ایک آزاد رائے رکھنا میرا بنیادی انسانی حق ہے۔ تو کیا اس صورت میں مجھے آئین یا ریاست کا باغی تصور کیا جائے گا؟ میں جناب مبشر زیدی صاحب سے سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کی نظر میں احترام رمضان آرڈیننس درست قانون ہے؟ اگر نہیں تو کیا آپ کو ریاست پاکستان کا باغی سمجھا جائے یا اگر آپ نے پاکستان کی شہریت لی ہے اور اپنا شناختی کارڈ بنوا لیا اور پاسپورٹ بھی بنوا لیا ہے تو کیا آپ نے یہ کام کر کے اس طرح کے قانون کا درست ہونا علی الاعلان تسلیم کرلیا ہے؟ آئین کی شق 6 میں جس بغاوت یا آئین شکنی کا ذکر ہے وہ آئین کے ساتھ وہ کھلواڑ ہے جو ضیاء الحق نے کیا تھا۔ اور ضیاء الحق کے بنائے ہوئے قوانین کو اگر آپ درست تسلیم نہیں کرتے تو آپ باغی نہیں کہلا سکتے۔ اور آئین میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے جو تبدیلیاں حال ہی میں کی گئی ہیں وہ اسی لئے کی گئی ہیں کہ آئین میں کچھ غلطیاں تھیں۔ کچھ کمیاں تھیں۔ ان غلطیوں کی نشاندہی کرنے سے ہی تبدیلی اور بہتری آتی ہے۔ انہیں غلطی کہنا بغاوت نہیں ہوتی۔ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔ اس میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ترمیم کیی جا سکتی ہے۔

تاہم کچھ ایسے امور ضرور ہیں جہاں احمدی خود اس مسئلے پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جہاں احمدیوں کو اس بات کا حلف نامہ داخل کرنا پڑتا ہے کہ وہ اس امر کو خود تسلیم کریں کہ وہ غیر مسلم ہیں اور انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح کا سلوک احمدیوں سے ووٹ کے معاملے پر بھی کیا جاتا ہے۔ اور ایسے تمام عہدے اور خدمات جن سے احمدیوں کو دور رکھنا مقصود ہوتا ہے وہاں ایسے بیان حلفی کی شرط عائد کی جاتی ہے۔ اسکے علاوہ ہر وہ خدمت جہاں احمدیوں کو انکے عقیدے سے بیزاری کے حلف نامے سے مشروط نہیں کیا جاتا وہ احمدی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اگر آپ احمدیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں تو یہ آپ کا حق ہے مگر احمدی بھی اپنے آپ کو وہی سمجھیں جو آپ انہیں سمجھتے ہیں، یہ آپ کا حق نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ احمدیوں کا فرض ہے۔ اور اگر پاکستان کا آئین احمدیوں کو غیر مسلم کہتا ہے تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا کہ احمدی اگر اس ملک کی کسی رنگ میں خدمت کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اپنے عمل سے غیر مسلم قرار دیتے ہیں۔

Reference

Suggested reading

Non-Sectarian Islam: The Proportionate Faith

Hajj and Universal Brotherhood and Sisterhood

Are Ahmadis Muslims? Let us ask Prophet Muhammad

Urdu Video: Ghamidi Declaring Ahmadis to be Muslims

Are Ahmadi Muslims: A Collection of Articles?

A New Commentary of the Holy Quran Emphasizing Compassion, Justice and Human Rights Launched

Categories: Pakistan, Sectarianism

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s