Pakistan: Story of French commandos becoming Muslim to rid rebels from Mecca

Mustansar Hussain Tarar Lahore

Pakistanis are copying Arabian customs, while Arabia is changing fast like Abays is not a must for women

قصہ مختصر سعودی عرب میں جو نظام رائج ہے، ظاہر ہے اس کا بنیادی مقصد سعودی خاندان کی بادشاہت کو مستحکم کرنا ہے۔ جس کے لیے وہاں کے شیوخ اور علماء کرام جابر سلطان سے پوچھ کر کلمہ فتویٰ دیتے ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب آل سعود کے مخالفین نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا تھا۔Author author

اول اول تو انہیں ایرانی قرار دیا گیا تھا لیکن پھر کُھلا کہ یہ تو گھریلو معاملہ ہے اور ماشاء اللہ سعودی افواج کے بس میں نہ تھا کہ وہ ان دہشت گردوں کو خانہ کعبہ سے نکال باہر کریں اور پھر زر کثیر خرچ کے دنیا کے اس وقت کے بہترین کمانڈو جو کہ فرانسیسی تھے انہیں کرائے پر حاصل کیا گیا اور یہاں ایک شرعی مسئلہ درپیش ہو گیا کہ فرانسیسی تو کافر تھے وہ کیسے خانہ کعبہ میں داخل ہو کر شر پسندوں کا مکو ٹھپ سکتے تھے تو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جب وہ تشریف لائے تو انہیں کہا گیا کہ ایک مجبوری ہے آپ جو کچھ ہم عربی میں کہیں گے اسے دوہرا دیں انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ انہوں نے دہرا دیا۔ یعنی انہوں نے کلمہ پڑھ لیا اور عارضی طور پر مسلمان ہو گئے۔

ان میں سے ایک کمانڈو نے بیان دیا تھا کہ جب ہم سعودی عرب پہنچے تو عربوں نے ہمیں کچھ دوہرانے کو کہا۔ جس کا مطلب ہم نہیں جانتے تھے، بہر طور مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار میمونہ کچھ عرصہ بیٹے کے ساتھ جدہ میں بسر کر کے واپس لاہور آئی تو ایئر پورٹ پر اس کی مسرت دیکھنے والی تھی‘ کہنے لگی پاکستان کی کیا بات ہے۔ یہاں زندگی ہے۔ بچے کھیلتے نظر آ رہے ہیں خواتین اور لڑکیاں بازاروں میں چلتی پھرتی ہیں لوگ خوش نظر آ رہے ہیں۔ وہاں تو کوئی مسکراتا بھی نہیں۔ شکر ہے میں ایک تہذیب یافتہ معاشرے میں واپس آ گئی ہوں۔

لیکن اب پچھلے دنوں ایک سانحہ ہو گیا ہے۔ ہم کافر ہوئے ہیں تو وہ مسلمان ہو گیا ہے یا پھر ہم مسلمان ہوئے ہیں اور وہ کافر ہو گیا۔ یکدم یوٹرن لے لیا ہے اور ہم پریشان کھڑے ہیں بقول اظہار الحق کے ہم نے اپنے ٹیلی ویژن توڑ ڈالے‘ اپنی خواتین کو یہ لمبے لمبے سیاہ چوغے پہنا دیے ۔

ہر اس شے کو حرام قرار دیا جس میں خوشی کے حصول کا کوئی ذرہ بھر خدشہ تھا۔ اپنے بچوں کو سعودی امداد سے قائم ہونے والے مدرسوں میں داخل کرا دیا۔ شلواریں گھٹنوں سے اوپر کر لیں۔ یہاں تک کہ خدا حافظ کی بجائے اللہ حافظ کہنے لگے۔ اپنے علاوہ ہر فرقے کو کافر قرار دیا۔ یعنی ہمارا حال تو نورجہاں جیسا ہو گیا کہ ساہنوں نہر والے پل تے بلا کے خورے ماہی کتھے رہ گیا۔ ہم نہر والے پُل پر حیران پریشان کھڑے ہیں اور ماہی جانے کدھر گیا۔ ماہی کے علماء کرام نے ایک اور فتویٰ دے دیا کہ پردے کے لیے عبایا پہننا ضروری نہیں ہے۔ عورتیں اس پہناوے کے بغیر بھی گھوم پھر سکتی ہیں۔ ویلنٹائن ڈے میں کچھ حرج نہیں۔ اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے.

تازہ ترین تحقیق یہ ہے کہ ڈرائیونگ سے عورتوں کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت مجروح نہیں ہوتی تو وہ اس برس جون میں کاریں دوڑاتی پھریں گی۔ بلکہ خواتین بے دریغ موٹر سائیکلیں بھی چلا سکتی ہیں اور ہماری چشم نے کیسے کیسے عبرت ناک منظر دیکھے۔ سعودی عورتیں مردوں کے ساتھ فٹ بال میچ دیکھ رہی ہیں اور ہاتھ ہلا ہلا کر رقص کے انداز میں نعرے لگا رہی ہیں۔ ایک اور فتویٰ آ گیا۔ عورتیں کاروبار بھی کر سکتی ہیں جدہ میں کاروں کا ایک شو روم کھل گیا جہاں سب کی سب سیلز گرلز۔ اپنی سعودی ہمشیرگان ہیں۔ اوروہ نہایت بے تکلفی سے موئے مردوں کے ساتھ بے دریغ گفتگو کر رہی ہیں حالانکہ وہ نامحرم ہیں۔

سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شاید ریاض میں ایک میوزیکل کنسرٹ ہو رہا ہے۔ کوئی عرب گلو کارہ لہک لہک کر اپنے لباس میں سے امڈ امڈ کر موسیقی کی تانوں پر سوار نغمہ سرا ہیں اور ہال میں موجود خواتین پر وجد طاری ہو چکا ہے اور وہ جھوم برابر جھوم رہی ہیں۔ البتہ اس کنسرٹ میں نامحرم مردوں کا داخلہ فی الحال منع تھا۔ آخر ہمیں اپنے مذہب سے مکمل روگردانی تو نہیں کرنی۔

یہاں تک میراتھن دوڑ بھی منعقد کی گئی ہے۔ تھیٹر اور اوپیراگھر بھی وجود میں آ رہے ہیں۔ جس کا میں اہل ہوں اگرچہ عمر کی ناتوانی کے باعث ایک عرصے سے نااہل ہوں۔ جدہ میں خواتین کے ملبوسات کے ایک سپر سٹور میں جاتی ہے اور میں باہر کھڑا اس کا انتظار کرتا ہوں۔ میمونہ اس سپر سٹور سے جب باہر آتی ہے تو اس کا چہرہ لال بھبھو کا ہو رہا ہے۔ سرخ انار ہو ر ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ کیا ہوا؟ تو وہ کہتی ہے نہیں پوچھو‘ مجھے شرم آتی ہے تو میں مزید اشتیاق سے دریافت کرتا ہوں کہ میمونہ کیا ہوا تو وہ ادھر ادھر دیکھ کر سرگوشی کرتی ہے کہ سٹور کے اندر یہ عربنیں ‘ننگی پننگی گھوم رہی تھیں۔ برہنہ حالت میں‘ لباس پہ لباس تبدیل کرتی تھیں۔ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔ میمونہ اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے ایک بنیاد پرست مسلمان ہے لیکن ایک راجپوت ہونے کے حوالے سے وہ ایک عورت کی یوں بے حیائی برداشت نہیں کر سکتی۔

اب ان دنوں سعودی عرب میں جو ’’انقلابی‘‘ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں سعودی کراؤ ن پرنس بہت ہی لبرل ہوتے جاتے ہیں تو مجھے حیرت ہے کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے اس ترقی پسندی پر کچھ احتجاج نہیں ہوا۔ کم از کم شباب ملی کے ڈنڈا برداروں کو تو ویلنٹائن ڈے کو جائز قرار دینے پر کچھ تو ہلا گلا کرنا چاہیے تھا۔ میرے دیرینہ دوست سجاد میر جن کی ادبی اور شعری شناخت کی خوبیوں کا میں قائل ہوں۔ اگرچہ تصوف کی جو گرہیں وہ کھولتے ہیں ان کا قائل نہیں ہوں تو کم از کم وہ تو اس روشن خیال سعودی عرب کے انقلاب کے بارے میں اپنی آراء کا اظہار کریں۔

وہ جو کہتے ہیں ناں کہ مرے کو مارے شاہ مدار۔ مجھے قطعی طور پر علم نہیں کہ شا ہ مدارکون تھا اور وہ مرے کو کیوں بلاوجہ مارتا تھا۔ تو تازہ خبر آئی کہ جدہ میں ایک عظیم فیشن شو کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے کروڑوں ڈالر وقف کر دیے گئے ہیں۔ دنیا بھر سے فرانس‘ برطانیہ اور امریکہ وغیرہ سے بھرے بدنوں‘ اشتعال انگیز تناسب والی فیشن ماڈلز آئیں گی اور ماشاء اللہ بلیوں کی چال چلیں گی یعنی حرمین شریفین کے خادموں کی سلطنت میں کیٹ واک کریں گی۔ عجب سلسلے ہیں کہ سعودی کوئے یار سے نکلتے ہیں تو راہ میں ٹھہرتے ہی نہیں‘ سیدھے سوئے دارجاتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ نہر والے پل پر حیران کھڑے ہیں۔ کافر کھڑے ہیں یا مسلمان کھڑے ہیں کچھ معلوم نہیں کرائے کے لوگوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ ہمارا ماہی جانے کدھر نکل گیا۔ وہ یکدم لبرل اور روشن خیال ہو گیا اتنا کہ ہم تو نہیں ہو سکتے ہم پاکستانی یقین کیجیے کہ ہمیشہ سے بہت معتدل اور متوازن رہے ہیں۔ ہم اپنے عقیدے کے ساتھ بھی جڑے رہتے ہیں اور اعتدال کی راہ سے بھی روگردانی نہیں کرتے۔

ہم کب تک نہر والے پل پر کھڑے اس ماہی کا انتظار کرتے رہیں گے جس کے عشق میں گرفتار ہو کر ہم نے اپنی ثقافت ترک کر دی‘ تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کی اور وہ ماہی رنگ رلیاں منانے میں مشغول ہو گیا ہے۔

image_pdf

Categories: Arab World, Asia, Pakistan

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s