ہر گھر میں بیت الدعا بن جانا چاہئے

kaaba 2

Kaaba is a symbol of universal brotherhood among the Muslims and beyond.  Additional reading: Effectiveness of Prayers (Dua) As Presented By Islam

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہر گھر میں بیت الدعا بن جانا چاہئے

سید شمشاد احمد ناصرمربی سلسلہ امریکہ

اس وقت دنیا کے حالات کچھ ایسے خطرناک ہیں کہ ہر انسان واحد  ہی نہیں بلکہ “کرونا وائرس” سے بڑی بڑی حکومتیں بھی پریشان ہیں  جہاں تک ظاہری تدابیر کا تعلق ہے ہر شخص کو احتیار کرنی چاہئیں اور جو جو اقدامات حکومتیں کررہی ہیں ان کے ساتھ بالکل تعاون ہونا چاہئے۔ لیکن ایک بات جس کی طرف توجہ کم ہے ۔ اور جس کی طرف بار بار توجہ دلانے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ہر شخص کو خدا تعالی کے ساتھ بھی مضبوط تعلق قائم کرنا چاہئے  اور یہ کئی طریقے سے ممکن ہو سکتا ہے ۔ اول خداتعالی کے احکامات پر عمل کرنے سے اور  دوم مخلوق خدا کی ہمدردی سے۔

خدا تعالی کے احکامات میں سے اول نماز کا قیام ہے ۔ اور قیامت کے دن بھی نماز کا ہی حساب سب سے پہلے ہوگا۔ اسکی تیاری ہر شخص کو کرنی چاہئے پھر دعائیں ہیں  ،ذکر الہی ہے ،تلاوت قرآن ہے ،آنحضرت ﷺ پر کثرت سے درود  شریف بھیجنا ہے ، استغفار  کرنا ، لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ  پڑھنا ، یاحفیظ یا عزیز یا رفیق پڑھنا، رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ پڑھنااور خدا تعالی سے گناہوں کی معافی چاہنا ۔ اللہ تعالی ہمیں اسکی توفیق دے۔

ہم سب کو یہ امر بھی یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا میں کوئی امر بھی خدا کے حکم کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہوتا ۔ خدا کے حکم بغیر تو پتہ بھی درخت سے نیچے نہیں گرتا ۔

یہ بلائیں، یہ آفات سب کچھ خدا تعالی کے حکم سے ہیں۔ غور فرمائیں کہ حکومتیں کس قدر مضبوط ہونے کے باوجود ، کس قدر مضبوط طاقت رکھنے کے باوجود حتی کہ دنیا کی سپر پاورس، ایٹم بم ہونے کے باوجود بھی  اس کرونا وائرس کے آگے بے بس ہو چکی ہیں ۔ دنیا کے کتنے ممالک اسکی لپیٹ میں آچکے ہیں۔ کس قدر ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ اور اسکی روک تھام کے لئے ایڑی تک کا زور لگا رہی ہیں۔ اللہ تعالی معاف فرمائے اور دنیا کو ہلاکت سے بچائے  تاکہ لوگوں کا رجوع الی اللہ ہو ۔

آج کل جب کہ بہت سے ممالک میں لوگ اس کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اور انہیں اپنے دن گزارنے کے لئے سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کیا جائے ۔ ایک دو باتیں لکھنی چاہتا ہوں۔ بعض لوگ تو اپنے آپ کو کام میں مصروف رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ گھروں میں بے کار ہیں۔ کچھ لوگ اور خصوصا بچے گھروں میں زیادہ وقت T.V پر  یا گیمیز پر گزارتے ہیں۔ انہیں اس سے اچھا دل بہلا وا نہیں مل رہا۔ مگر یہ سب چیزیں اس وقت لغو کے طور پر ہیں۔ ہاں ضروری پروگرامز دیکھے جائیں ۔ہم ٹیلی ویژن احمدیہ سے استفادہ کریں، قرآن شریف پڑھیں بھی اور ایم ٹی اے پر سنیں بھی۔ بچوں کو قرآن کریم کی سورتیں یاد کرائیں، دعائیں یاد کروائیں ،حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب کا مطالعہ کریں ، خدام الاحمدیہ کو بھی ان باتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ، جماعت کا بہت سا لٹریچر انگلش میں موجود ہے،حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا انگیریزی ترجمہ موجود ہے ان سب کا مطالعہ کریں۔ اسکے علاوہ ایک اور اہم بات جس کی طرف حضرت مسیح موعودؑ نے توجہ دلائی ہے وہ لکھتا ہوں ۔

حضرت یعقوب علی عرفانی اپنی کتاب “سیرت مسیح موعودؑ” میں لکھتے ہیں “حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کے متعلق ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ خواہ سفر میں ہوں یا حضر میں۔ دعا کے لئے ایک مخصوص جگہ بنا لیا کرتے تھے اور وہ بیت الدعاء کہلاتا تھا میں جہاں جہاں حضرت صاحب کے ساتھ گیا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے دعا کے لئے ایک جگہ ضرور مخصوص فرمائی اور اپنے روزانہ پروگرام میں یہ بات ہمیشہ داخل رکھی ہے کہ ایک وقت دعا کے لئے الگ کر لیا ۔

قادیان میں ابتدا ً تو آپ اپنے اس چوبارہ میں ہی دعاؤں میں مصروف رہتے تھے جو آپ کے قیام کے لئے مخصوص تھا پھر بیت الذکر اس مقصد کے لئے مخصوص ہو گیا۔ جب اللہ تعالی کی مشیت ازلی نے بیت الذکر بھی عام عبادت گاہ بنا دیا اور تخلیہ میسر نہ رہا تو آپ نے گھر میں ایک بیت الدعاء بنایا جواب تک موجود ہے ۔ جب زلزلہ آیا اور حضور کچھ عرصہ کے لئے باغ میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی ایک چبوترہ اس غرض کے لئے تعمیر کرالیا ۔ گورداسپور مقدمات کے سلسلہ میں آپ کو کچھ عرصہ کے لئے رہنا پڑا تووہاں بھی بیت الدعاء کا اہتمام تھا۔غرض  حضرت کی زندگی کا یہ دستور العمل بہت نمایاں ہے آپ دعا کے لئے ایک الگ جگہ رکھتے تھے بلکہ آخر حصہ عمر میں تو آپ بعض اوقات فرماتے کہ بہت کچھ لکھا گیا اور ہر طرح اتمام حجت کیا اب جی چاہتا ہے کہ

“میں صرف دعا کیا کروں”

دعاؤوں کے ساتھ آپ کو ایک خاص مناسبت تھی بلکہ دعائیں ہی آپ کی زندگی تھی چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے آپ کی روح دعا کی طرف متوجہ رہتی تھی۔ ہر مشکل کی کلید آپ دعا کو یقین کرتے تھے اورجماعت میں یہی جذبہ اور روح آپ پیدا کرنا چاہتے تھے کہ دعاؤوں کی عادت ڈالیں”                                   (504-505)

حضرت یعقوب علی عرفانی صاحب مزید فرماتے ہیں۔

1903ءکا واقعہ ہے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے ہم نے سوچا ہے کہ عمر کا اعتبار نہیں ہے ستر 70سال کے قریب عمر کے گزر چکے ہیں۔ موت کا وقت معلوم نہیں خدا جانے کس وقت آجائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی پڑا ہے ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوتی ہے ، رہی سیف اسکے واسطے خدا تعالی کا اذن اور منشاء نہیں ہے۔  لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور اسی سے قوت پانے کے واسطے ایک الگ حجرہ بنایا اور خدا سے دعا کی کہ اس مسجد البیت اور بیت الدعا ء کو امن اور سلامتی اور اعداء پر بذریعہ دلائل نیرّہ اور براہین ساطعہ کے فتح کا گھر بنا ”                                                                                                                              (522)

پس کسی بھی قسم کی فتح کے لئے دعا کا ہتھیار ہے جو حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے اپنی جماعت کو دیا ہے ۔ جماعت کا ہر فرد ، ہر بچہ ، ہر بڑا ، ہر نوجوان ، ہر خاتون،بچی ،بوڑھا ، مردوزن  دعاؤوں میں لگ جائے اور گھروں میں بیت الدعا ء بنا کر اسمیں رو رو کر خدا کے حضور مسجدوں میں دعا کی جائے کہ وہ اس آفت کو دنیا سے ٹلائے ۔

اللہ تعالی کا بھی قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔ وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلاةِ

کہ معاملات میں خدا تعالی سے صبر اور دعا کے ساتھ مدد چاہو اور یہ مسلسل ہو ۔ صبر اور دعا کی طاقت بھی خدا تعالی سے ہی آتی ہے۔

اللہ تعالی کا یہ بھی ارشاد ہے کہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ ۔ کہ اگر خدا تعالی سے خیر کثیر چاہتے ہو۔ تو پھر نمازیں اور دعائیں پڑھو  اور قربانی کرو  قربانی بھی بہت زیادہ  ، معمولی قربانیوں سے یہ گول یہ مقصد حاصل ہونے والا نہیں۔

؏” حیلے سب جاتے رہے اِک حضرتِ تَوّاب ہے” ۔ والا مضمون ہے۔

ان بیماریوں کا اصل نسخہ اور علاج دوسری تدابیر کے علاوہ نماز اور دعا رجوع الی اللہ اور توبہ ہے ۔ جہاں ظاہر ی صفائی  کا اس وقت خیال رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں باطنی صفائی کا ظاہری صفائی کی نسبت زیادہ خیال رکھیں۔

اللَّھُمَّ اشْفِ اَنْتَ الشَّافِی لاَ شِفَائََ اِلاَّ شِفَاؤُکَ اشف مرضانا شفاء کاملا عاجلا لا یغادر سقما برحمتک یا ارحم الرحمین

حضور ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے 20 مارچ 2020ء کے خطبہ جمعہ میں خاص طور پر یاد دھانی کے لئے یہ فرمایا ہے کہ جب بیماریاں  اور  وبائیں آتیں ہیں تو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتیں ہیں۔ ہر ایک کو احتیاط کرنی چاہئے بڑی عمر کے لوگ ،بیمار لوگ گھر سے کم نکلیں مسجد آنے میں بھی احتیاط کریں جمعہ بھی اپنے علاقوں کی مسجدوں میں پڑھیں عورتیں مساجد میں آنے سے پرہیز کریں ڈاکٹرز کہ رہے ہیں کہ جسم میں قوت مدافعت کے لئے آرام زیادہ کریں نیند پوری کرنی چاہئے ۔

یہ نہیں کہ ساری ساری رات آپ بیٹھے رہیں اور فجر کی نماز پر نہ اٹھیں اور رات کو جلدی سوئیں اور جلد ی اٹھیں بازاری چیزیں جیسے چپس وغیرہ کھانے سے پرہیز کریں پانی بار بار پیئں ،ہاتھوں کی صفائی کریں بار بار دھوئیں چھینک آنے پر رومال رکھیں صفائی بہت ضروری ہے ۔ لیکن آخری حربہ دعا ہے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالی ہم سب کواس کے شر سے بچائے عمومی طور پر سب کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی اس وباء کے اثرات سے بچائے رکھے اور ایمان و ایقان میں سب کو بڑھائے آمین ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.