پسینہ خشک ہونے سے قبل

راشد احمد بلوچ ۔ ربوہ
دنیا کی معلوم دس ہزار سالہ تاریخ میں اسلام وہ پہلا مذہب تھا جس نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں رہنما اصول وضع کئے۔کھانے پینے کے آداب سے لیکر ایک حسین اور متوازن معاشرہ کی بنیاد تک ہمیں ہر ہر شعبہ میں رہنما اور زریں اصول نظر آتے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم ایک حسین معاشرہ کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
دنیا میں ایک مظلوم طبقہ مزدوروں کا بھی ہے جنہیں ہر دور میں دوسرے درجے کا شہری متصور کیا گیا اور ان کے حقوق کی پامالی کی گئی۔اور تماشہ یہ ہے کہ حقوق کی پامالی کرنے والے ہی مزدوروں کے حق میں ٹھنڈے ٹھار بڑے بڑے ہالوں میں لمبے چوڑے سیمینار منعقدکرتے ہیںَ۔مزدوروں کے حقوق کے نام نہاد علمبردار لمبی چوڑی تقریریں کر کے اپنی بڑی بڑی سیاہ و سفید گاڑیوں میں اپنے اپنے بنگلوں اور کوٹھیوں کو لوٹ جاتے ہیںِمگر غریب مزدور کے دن نہیں سنور تے اس کی کٹیا ویسے ہی ویران پڑی رہتی ہے ۔اس کے بچے غربت و افلاس کی چادر اوڑھے نامہرباں موسموں کی سختیوں سے بچنے کی اپنی سی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔
مزدور کی زندگی گویا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں۔بڑے بڑے آدم خور سرمایہ دار غریب مزدور کو اپنی اجارہ داری کے شکنجے سے آزاد نہیں ہونے دیتے۔غریب کی روح ہر وقت سولی پر ٹنگی رہتی ہے۔ساری عمر پیہم محنت اور مشقت سے اپنا خون پسینہ بہانے کے باوجود اس کا چولہا دو وقت بھی نہیں جل پاتا۔اس کے بچے ساری عمر اسکول کا منہ نہیں دیکھ پاتے جبکہ اسی مزدور کی محنت سے انہی پہ راج کرنے والے بے رحم وڈیروں سرمایہ داروں کے اپنے بچے دنیا کی اعلی سے اعلی اداروں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں اور وہی بچے کل کے بے رحم حکمران بن کر پھر غریب کی نسلوں کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں۔یہ شیطانی چکر یونہی جاری و ساری رہتا ہے۔الغرض مسائل کا ایک بحر بے کنار ہے جس میں غریب مزدور گوڈے گوڈے غرق ہے مگر کیا مجال مجال لمبی لمبی تقریریں کرنے والوں کی کہ عملی طور پر بھی غریب کی ترقی کے لئے کوئی قدم اٹھائیں اور غریب کی محرومیوں کا مداوا کریں۔
آج سے تقریبا 1500سال قبل صحرائے عرب کی وسعتوں میں ایک آواز گونجی کہ’’مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادا کرو‘‘حکمت کا یہ کلمہ بلند کرنے والے ہمارے آقا و مولیﷺ تھے جن کی لائی ہوئی جامع تعلیم نے ایک ایسا ہموار معاشرہ تشکیل دیا جہاں مزدور وآقا کے حقوق برابر تھے۔جہاں مابہ الامتیاز صرف اور صرف اچھے اعمال اور حسن اخلاق تھا۔جہاں مزدور مفوضہ امور کو نہایت احسن طریق پر ادا کرتا تھا وہیں اس کو اسکی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی ادا ہو جاتی تھی۔نتیجۃ ایسا مثالی معاشرہ دنیا کے افق پر نمودار ہواجہاں نہ مزدورں کا عالمی دن منانے کی ضرورت پڑتی تھی اور نہ ہی لمبی لمبی بے معنی کھوکلی تقریریں کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔
جوں جوں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا غریب کے منہ سے نوالہ چھینا گیا توں توں عملیت کی جگہ لمبے لمبے وعظوں اور تقریروں نے لے لی۔رہزن جب رہنما بن بیٹھے تب مزدور کا حق بھی اس سے چھن گیا اور اس کی جگہ صرف دن منانے نے لے لی۔غریب مزدور پر آج بھی زندگی کا گھیرا تنگ ہے۔منہگائی کے بوجھ تکے دبی اسکی کمر آج بھی ناتوانی کی وجہ سے خم ہے۔اس کا پسینہ خشک ہونا تو کجا اسکا خون بھی سوکھ جائے تب بھی اسکی شنوائی نہیں ہوتی اور اس کو اسکی مزوری نہیں ملتی۔
بے رحم اور انسانیت سے عاری ناخلف حکمران ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکروں میں مزدور کی تنخواہ بڑھانے کے اعلان تو کر جاتے ہیں مگر وہ وعدہ یہ کیا جو وفا ہوجائے کہ اصل غرض تو فریقْ مخالف پر اپنی برتری اور فوقیت ثابت کرنا ہے اگر مقصد غریب کی خدمت ہوتی تو یہ نیک کام اس سے قبل ہی ہو چکے ہوتے مگر برا ہو سیاست کی کان کا جہاں ہر ’’کان کن‘‘کے ہاتھ کالے ہیں اور بعضوں کے تو منہ بھی اس بے رحم کان نے کالے کر ڈالے ہیں مگر فہم سے عاری یہ آدم خور ابھی بھی آدم بو آدم بو کرتے پھر رہے ہیں۔
مزدور کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ مزدور ہے اور مزدور بارے انسان کاملﷺ نے فرمایا تھا کہ’’محنت کش اللہ کا دوست ہوتا ہے‘‘اور اک ہم ہیں کہ اللہ کے دوستوں سے بے قدری اور نامہربا نی کا سلوک کرتے ہیں۔دنیامیں ایک سچا دوست اپنے دوست کی خاطر دشمنوں سے تنہا بھی لڑ بھڑ جاتا ہے تو کیا خدا جو قہار ہے اپنے دوستوں کی بے قدری پر ہم سے انتقام نہیں لے گا۔چشم بینا کے لئے اسی میں ہزار سبق پنہاں ہیں کہ ہم جو پشاور تا کراچی مسائل کی آگ میں جھلس رہے ہیں کیا اسکی وجہ خدا تعالی کی ناراضگی تو نہیں۔کھوکلے نعروں سے غریب کی بھوک نہیں ختم ہوتی۔بلند وبانگ و درباطن ہیچ نعروں سے غریب کی تقدیر نہیں بدلتی۔سیمیناروں سے غریب کے بچوں کے سروں پر سائبان نہیں تن جاتے۔لمبی لمبی پر جوش تقریروں سے غریب کی بھوک نہیں مٹتی۔ہمیں غریب کو اسکا حق دینا پڑے گا۔اس کے بچوں کو بھی اسی زیور تعلیم سے آراستہ کرنا پڑے گا جس
سے امیر کے بچے مستفید ہو رہے ہیں ورنہ غریب کی دلسوز پکار
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
گرعرش تک پہنچ گئی تو ہمارے سروائیو کرنے میں بہت مشکلات حائل ہو جائیں گی۔ہم پہلے ہی مسائل کے سونامی میں گھرے ہیں۔کیا اور مشکلات سہنے کی گنجائش رہ گئی ہے؟نا مہرباں حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جنہیں اقتدار کی ہوس نے سب کچھ بھلا رکھا ہے انہیں اس طرف بھی کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھ لینا چاہئے کہ کوئی صاحب حکمت یوں بھی نکتہ سرائی کر گئے ہیں کہ
جس دور میں لٹ جائے غریبوں کی کمائی
اس دور کے سلطاں سے کوئی بھول ہوئی ہے

Categories: Asia, Urdu

1 reply

  1. asslam,o,laikum and jazak,Allah Zia sahib for publishing my article.God bless you.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.